25 سے زائد برس بعد صومالیہ میں نئے بینک نوٹ متعارف کروانے کا اعلان

صومالیہ تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption نئے بینک نوٹ رواں سال کے اواخر تک متعارف کروائے جائیں گے

صومالیہ میں 25 سے زائد برسوں کے بعد حکومت نے پہلی بار ملک میں نئے بینک نوٹ چھاپنے کا اعلان کیا ہے۔

سنہ 1991 میں صومالیہ میں پھیلنے والے تشدد اور انتشار کے بعد جنگجو سرداروں نے اپنے بینک نوٹ چھاپنا شروع کر دیے تھے اور ملک کی بیشتر کرنسی کو جعلی سمجھا جاتا ہے۔

صومالی افراد نے مقامی کرنسی کے بجائے امریکی ڈالر کا استعمال کیا جس کے نتیجے میں مہنگائی میں اضافہ ہوا۔

نئے بینک نوٹ رواں سال کے اواخر تک متعارف کروائے جائیں گے اور اس کے لیے انٹرنیشنل مونیٹری فنڈ مدد فراہم کر رہی ہے۔

اس اقدام پر تقریباً چھ کروڑ ڈالر خرچ آئے گا۔

آئی ایم ایف کے مطابق ابتدائی طور پر ایک 1000 صومالی شیلنگ متعارف کروائے جائیں گے۔

صومالیہ میں آئی ایم ایف مشن کے سربراہ محمد الحاج نے اخبار فنانشل ٹائمز کو بتایا کہ وہ معیشت کے بگاڑ کے مسئلے پر توجہ دے رہے ہیں جس میں مضبوط مونیٹری پالیسی اور ایکس چینج پالیسی شامل ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ 'اس کام کے لیے آپ کو اس قابل ہونا چاہیے کہ اپنی قومی کرنسی جاری کر سکیں۔ لیکن نئی کرنسی جاری کام آسان کام نہیں ہے۔'

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں