میانمار میں جھڑپیں: 20 ہزار افراد چین پہنچ گئے

میانمار تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption سرحدی علاقوں میں تنازعے سے میانمار اور چین کے درمیان بھی کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے

میانمار میں سکیورٹی فورسز اور ریاست شان میں مقامی نسل سے تعلق رکھنے والے باغیوں کے درمیان جھڑپوں کے بعد کم از کم 20 ہزار سرحد عبور کر کے چین میں داخل ہوگئے ہیں۔

چین کی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ ہزاروں کی تعداد میں افراد سرحدی کیمپوں میں داخل ہوئے ہیں اور انھیں انسانی بنیادوں پر مدد فراہم کی جا رہی ہے۔

گذشتہ ہفتے میانمار کی چین کے ساتھ متصل سرحد پر باغیوں کے ایک حملے میں 30 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

یہ پرتشدد واقعات دہائیوں پر محیط تنازعے کے خاتمے کے لیے میانمار کی رہنما آنگ سان سوچی کی کوششوں کو ایک دھچکا ہے۔

حالیہ جھڑپوں میں چھوٹے پیمانے کے ہتھیار استعمال کیے گئے ہیں اور یہ شمالی ریاست شان کے کوکانگ علاقے میں لوکائی کے مقام پر ہوئی ہیں۔

چین کی وزات خارجہ کے ترجمان گینگ شوآنگ کا کہنا ہے کہ ’جنگ سے عارضی طور پر بچاؤ‘ کرنے والوں مدد فراہم کی ہے۔ انھوں نے فوری جنگ بندی کا مطالبہ کیا اور کہا کہ چین امن عمل میں میانمار کی حمایت کرتا ہے۔

حکام کے مطابق لڑائی اس وقت شروع ہوئی جب پیر کو پولیس کی وردیوں میں ملبوس میانمار نیشنلیٹیز ڈیموکریٹک الائنس آرمی (ایم این ڈی اے اے) نے اچانک دھاوا بول دیا تھا۔

اس حملے کا ہدف پولیس اور فوجی چوکیاں تھیں۔ ایک اور گروہ نے لوکائی کے دیگر علاقوں میں حملے کیے تھے۔

اس حملے میں پانچ شہریوں، پانچ پولیس اہلکاروں اور کم از کم 20 باغی جنگجوؤں کی ہلاکت کی اطلاعات ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption چین کی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ ہزاروں کی تعداد میں افراد سرحدی کیمپوں میں داخل ہوئے ہیں

خیال رہے کوکانگ کے چین کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں، یہاں کے مقامی افراد چینی لہجے کی زبان بولتے ہیں اور یوآن کو بطور کرنسی استعمال کرتے ہیں۔

سرحدی علاقوں میں تنازعے سے میانمار اور چین کے درمیان بھی کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔

آنگ سان سوچی کی حکومت دہائیوں پرانے اس تنازعے کو ختم کرنے کی خواہاں ہے جبکہ یہ خدشات بھی پائے جاتے ہیں کہ اس تنازعے سے ملک سے نقل مکانی کرنے والوں کا ایک نیا بحران پیدا ہو سکتا ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں