عراقی میں ایک شادی کے دوران دو خود کش دھماکوں میں افراد 26 ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption موصل میں دولتِ اسلامیہ کے شدت پسند

عراقی شہر تکریت کے نزدیک ایک گاؤں میں شادی کی تقریب کے دوران دو خود کش بمباروں نے خود کو دھماکے سے اڑا کر کم از کم 26 افراد کو ہلاک کر دیا ہے۔

نام نہاد تنظیم دولتِ اسلامیہ یا داعش نے بدھ کے روز ہونے والے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔

سرکاری ترجمان نے خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا کہ ہلاک شدگان میں زیادہ تر بچے ہیں۔

بدھ کے روز ہونے والی یہ شادی اس کنبے میں تھی جو عراق کے مغربی صوبے عنبر سے بے گھر ہو کر آئے تھے اور عراق میں ان کا تعلق دولتِ اسلامیہ کے مخالف قبیلے سے تھا۔

جہادیوں نے 2014 میں تکریت سمیت شمالی اور وسطی عراق کے بڑے علاقے پر قبضہ کر لیا تھا لیکن اپریل 2015 میں عراقی افواج نے انہیں نکال باہر کیا۔

تاہم انھوں نے تکریت اور اس کے اردگرد اپنے حملے جاری رکھے۔ جو سابق صدر صدام حسین کا آبائی شہر ہے۔

یہ حملہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب عراقی سرکاری افواج شمالی شہر موصل کو سنی شدت پسند گروپ سے واپس حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہیں جنوری میں شہر کے مشرقی حصے پر کنٹرول کے بعد سرکاری فوجی دستے اب مغربی علاقے کو حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔