رقہ پر حملے کے لیے امریکی فوجی شام پہنچ گئے

تصویر کے کاپی رائٹ CPL. DEMETRIUS MORGAN/US MARINE CORPS
Image caption تازہ بھیجے جانے والے فوجیوں کے بارے میں خیال ظاہر کیا جا رہا ہے ان کی تعیناتی عارضی ہے

امریکہ نے خود کو دولت اسلامیہ کہلانے والی شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ کے مضبوط گڑھ رقہ پر قبضہ حاصل کرنے کے لیے لڑنے والی مقامی اتحادی فوج کی مدد کے لیے کئی سو فوجی شام بھیجے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق یہ امریکی فوجی گذشتہ چند دنوں کے دوران پہنچے ہیں تاکہ ایک فوجی چوکی بنائیں جہاں سے تقریباً 32 کلومیٹر دور دولت اسلامیہ کے ٹھکانوں پر بمباری کی جا سکے۔

خصوصی امریکی دستے پہلے ہی وہاں موجود ہیں اور کردوں کی قیادت میں لڑنے والے سیریئن ڈیموکریٹک فورسز (ایس ڈی ایف) کی مدد کر رہے ہیں۔

امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ یہ اتحادی افواج آئندہ ہفتوں میں رقہ پر حملہ کرنے والی ہیں۔

دفاعی حکام نے واشنگٹن پوسٹ کو بتایا ہے کہ ان فوجیوں کا تعلق سان دیاگو کی 11ویں مرین ایکسپیڈشنری یونٹ سے ہے، اور یہ براستہ کویت اور جبوتی شمالی شام پہنچے ہیں۔

حکام کے مطابق یہ فوجی وہاں ٹوپ خانہ بنائیں گے جو ایم 777ہوئٹرزرز سے طاقتور 155ایم ایم شیلز فائر کر سکے۔

امریکی قیادت میں دولت اسلامیہ کے خلاف بننے والے بین الاقوامی اتحاد کے ترجمان کرنل جان ڈوریئن نے خبر رساں ادارے روئیٹرز کو بتایا کہ رقہ کے قریب بنائے جانے والے توپ خانے کی مدد سے دولت اسلامیہ کو ’شکست دینے میں تیزی لائی جائے گی۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ یہ اتحادی افواج آئندہ ہفتوں میں رقہ پر حملہ کرنے والی ہیں

ان کا کہنا تھا کہ ’ہمارے پاس وہ سب ہے جو میرے خیال میں دشمن کی صلاحیتوں کو تباہ کرنے اور دشمن کے جنگجوؤں کو مارنے کے لیے فضائی کارروائی میں ہونا چاہیے۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ ’یہ وہ سب کچھ ہے جس میں ہم اس نئی صلاحیت کی بدولت تیزی لانے والے ہیں۔‘

خیال رہے کہ سابق امریکی صدر براک اوباما کے دور اقتدار میں امریکی خصوصی فورسز کو ایس ڈی ایف کے کرد اور عرب جنگجوؤں کو تربیت، مشورہ دینے کے لیے تعینات کیا گیا تھا۔ تاہم ان کی تعداد کو 500 تک محدود رکھا گیا تھا۔

تازہ بھیجے جانے والے فوجیوں کے بارے میں خیال ظاہر کیا جا رہا ہے ان کی تعیناتی عارضی ہے اس لیے وہ ان پانچ سو فوجیوں میں شمار نہیں ہوتے۔

دوسری جانب نیو یارک ٹائمز کے مطابق امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ایک اندازے کے مطابق رقہ میں اس وقت چار ہزار کے قریب شدت پسند موجود ہیں جنھوں نے 2014 سے رقہ کا مکمل کنٹرول حاصل کر رکھا ہے۔

اسی بارے میں