امریکی محکمۂ دفاع کا خواتین فوجیوں کی برہنہ تصاویر کے سکینڈل کی تحقیقات کا اعلان

امریکہ تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption پینٹاگون کا کہنا ہے کہ ایسا رویہ ہمارے عقائد کے خلاف ہے

امریکی محکمۂ دفاع نے خواتین فوجیوں کی برہنہ تصاویر کو انٹرنیٹ پر شائع کرنے کے سکینڈل کی مکمل تحقیقات کرنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔

دوسری جانب امریکی وزیرِ دفاع جیمز میٹس نے کہا ہے کہ مسلح افواج کے تمام شعبوں میں' مناسب کارروائی' کی جا رہی ہے۔

انھوں نے کہا ہے کہ یہ حرکت ناقابل قبول ہے جس میں کسی کی عزت نہیں جاتی اور ایک یونٹ کی ہم آہنگی کے خلاف ہے۔'

’خواتین فوجیوں کی برہنہ تصاویر جاری کرنے کی تحقیقات‘

خواتین فوجیوں پر جنسی حملوں میں اضافہ

میرینز کے اعلیٰ اہلکار کے مطابق دس کے قریب خواتین فوجیوں نے آگے آ کر رسمی شکایت درج کرائی ہے۔

جنرل رابرٹ نیلر کے مطابق انھیں امید ہے کہ تحقیقات میں مدد کے لیے مزید خواتین آگے آئیں گی۔

پینٹاگون میں نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جنرل نیلر نے کہا ہے کہ انھیں اندازہ نہیں کہ تصاویر کو پوسٹ کرنے میں کتنے میرینز ملوث ہیں یا کتنے میرینز کو اس میں ہدف بنایا گیا۔

'اگر آپ اس قسم کے رویے میں کسی طرح سے بھی شریک ہیں تو آپ میری اور میرین کور کی مدد نہیں کر رہے۔ آپ جانتے ہیں کہ ہم دعویٰ کرتے ہیں کہ میرین ایک خاص خطاب ہے اور یہ ایسی چیز ہے جسے آپ حاصل کرتے ہیں۔ اس میں عزت ہے لیکن اپنی ساتھی میرین کو کسی بھی شکل میں بدنام کرنے میں کوئی عزت نہیں۔'

بی بی سی کی تحقیقات کے مطابق امریکہ میں خواتین فوجیوں کی برہنہ تصاویر کو انٹرنیٹ پر شائع کرنے کا سلسلہ صرف بحریہ نہیں بلکہ ملک کی تمام مسلح افواج تک پھیلا ہوا ہے۔

گذشتہ ہفتے سامنے آنے والی اطلاعات کے مطابق امریکی میرینز کی جانب سے فحش تصاویر 'میرینز یونائٹیڈ' نامی فیس بک گروپ میں شیئر کی گئی تھیں جس پر محکمۂ دفاع نے معاملے کی تحقیقات کا اعلان کیا تھا۔

تاہم بی بی سی کی تحقیقات کے مطابق مسلح افواج کے دیگر شعبوں سے تعلق رکھنے والے اہلکار بھی ایک میسج بورڈ پر خواتین فوجیوں سینکڑوں تصاویر شائع کرتے رہے ہیں۔

پینٹاگون کا کہنا ہے کہ ایسا رویہ ہماری اقدار کے خلاف ہے۔

ان میسیج بورڈز پر مرد اہلکار اکثر پہلے اپنی خواتین ساتھیوں کی کپڑوں میں ملبوس تصاویر شائع کرتے ہیں اور پھر دیگر صارفین سے پوچھتے ہیں کہ کیا کسی کے پاس ان کی برہنہ تصویر ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption دس کے قریب خواتین فوجیوں نے شکایت درج کرائی ہے

ایسی برہنہ تصاویر کو 'ونز' یعنی جیت کہا جاتا ہے جن پر غیر مہذب تبصرے سامنے آتے ہیں۔

ایسی پوسٹس میں اکثر خواتین کی شناخت، ان کے ناموں اور تعیناتی کے مقام بھی شائع کر دیے جاتے ہیں۔

فیس بک پر بنایا گیا 'میرینز یونائٹیڈ' نامی گروپ جس کے 30 ہزار حاضر سروس اور ریٹائرڈ اہلکار ارکان ہیں اب بند کر دیا گیا ہے تاہم یہ میسیج بورڈ اب بھی عام رسائی میں ہے۔

میرینز کے اعلیٰ افسر سارجنٹ میجر رونلڈ گرین نے اس واقعے پر ایک تحریری بیان میں کہا ہے کہ 'یہ ہماری اقدار اور میراث پر براہ راست حملہ ہے۔اس رویے سے ساتھی میرینز، خاندان کے ارکان اور سویلین کو ٹھیس پہنچی ہے۔'

امریکی بحریہ کے جرائم سے متعلق محکمے این سی آئی ایس نے بھی اس معاملے کی تحقیقات شروع کی ہیں جبکہ سینیٹ کی آرمڈ سروسز کمیٹی اس معاملے پر آئندہ ہفتے ایک سماعت کرے گی۔

این سی آئی ایس نے اس معاملے میں امریکی فوجیوں سے معلومات فراہم کرنے کی اپیل بھی کی ہے۔

بدھ کو دو ایسی خواتین جن کی برہنہ تصاویر شائع ہوئی تھیں منظرِ عام پر آئی ہیں اور انھوں نے دیگر ساتھیوں سے بھی ایسا کرنے کو کہا ہے۔

فیس بک پر ان تصاویر کو جاری کرنے کا انکشاف سابق اہلکار تھامس برینن کی غیر سرکاری تنظیم وار ہارس نے کیا تھا۔

برہنہ تصاویر کے بارے میں خیال ہے کہ ان میں سے کچھ بلا اجازت کھینچی گئیں تاہم کچھ باہمی اجازت سے کھینچی گئی تھیں تاہم انھیں بلا اجازت شائع کیا گیا۔

اسی بارے میں