’ترک کرد تنازعے کے دوران ڈیڑھ برس میں دو ہزار ہلاکتیں‘

ترکی تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption مواصلاتی تصاویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ کرد علاقے میں سینکڑوں عمارتیں تباہ ہو چکی ہیں

اقوامِ متحدہ نے ترکی پر ملک کے جنوبی مشرقی علاقے میں متعدد بار حقوقِ انسانی کی خلاف ورزی کا الزام لگاتے ہوئے کہا ہے کہ بدامنی کے دوران ڈیڑھ برس کے عرصے میں وہاں دو ہزار افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

اقوامِ متحدہ کی رپورٹ کے مطابق جولائی سنہ 2015 سے دسمبر 2016 کے درمیان اس علاقے سے قریباً پانچ لاکھ لوگ بے گھر ہوئے جن میں اکثریت کردوں کی تھی۔

* کرد پیشمرگہ کا بعشیقہ کو گھیرے میں لینے کا دعویٰ

اس علاقے کی مواصلاتی تصاویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ یہاں بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی ہے اور سینکڑوں عمارتیں تباہ ہو چکی ہیں۔

ترک حکومت اور کردستان ورکرز پارٹی (پی کے کے ) کے درمیان دو سال تک جاری رہنے والی جنگ بندی کا جولائی 2015 میں خاتمہ ہو گیا تھا۔

اقوامِ متحدہ کے تفتیش کاروں کے مطابق اس عرصے میں یہاں ہزاروں قتل، گمشدگیاں اور تشدد کے واقعات کے ساتھ ساتھ انسانی حقوق کی بیشتر خلاف ورزیاں ہوئیں اور سب سے زیادہ استحصال کئی دن تک جاری رہنے والے کرفیو کے دوران کیا گیا۔

اقوامِ متحدہ میں انسانی حقوق کے سربراہ زید رعد الحسین نے ترک حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ انھیں بالخصوص اس بات پر تشویش ہے کہ اس معاملے میں کوئی بھی قابلِ بھروسہ تحقیقات نہیں کروائی گئیں۔

اقوامِ متحدہ کی رپورٹ بھی خفیہ معلومات، لوگوں کے بیانات اور مواصلاتی تصاویر کے بل بوتے پر بنائی گئی ہے کیونکہ ترک حکومت نے اقومِ متحدہ کے تفتیش کاروں کو ان علاقوں تک رسائی دینے سے منع کر دیا تھا جہاں حکومت مخالف کردوں کے خلاف کارروائی جاری تھی۔

اسی بارے میں