امریکی کانگرس میں پاکستان کو دہشت گردی کا کفیل ملک قرار دینے کا مطالبہ

کانگریس تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption موجودہ کانگریس میں پاکستان پر لگام کسنے کا مطالبہ کرنے والی آوازیں پہلے سے کافی ترش ہیں

امریکی کانگریس کے ایوان نمائندگان میں ایک بل پیش کیا گیا ہے جس کے تحت پاکستان کو دہشت گردی کی معاونت کرنے والا ملک قرار دینے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

اس بل کو پیش کرنے والے بااثر رہنما ٹیڈ پو نے پاکستان کے ساتھ امریکہ کے تعلقات میں ایک ’انقلابی تبدیلی‘ کی بھی کوشش کی ہے۔

ٹیڈ پو کانگریس میں ایوان نمائندگان میں دہشت گردی سے متعلق ذیلی کمیٹی کے صدر ہیں اور اس سے پہلے بھی وہ پاکستان کی پالیسیوں پر سخت تنقید کرتے رہے ہیں۔

وائٹ ہاؤس نے پاکستان کے خلاف پٹیشن بند کر دی

اس بل کے تحت صدر کو 90 دنوں کے اندر جواب دینا ہو گا کہ پاکستان بین الاقوامی دہشت گردی کو سپورٹ کرتا ہے یا نہیں۔ اس کے 30 دن بعد وزیر خارجہ کو ایک رپورٹ دینا ہوگی جس میں انھیں یا تو پاکستان کو دہشت گردی کا کفیل ملک قرار کرنا پڑے گا یا تفصیل سے بتانا ہوگا کہ وہ کیوں اس زمرے میں نہ رکھا جا سکتا۔

ٹیڈ پو نے بل میں لکھا ہے، ’پاکستان نہ صرف ایک ایسا ساتھی ملک ہے جس پر اعتماد نہیں کیا جا سکتا، بلکہ اس نے برسوں سے امریکہ کے دشمنوں کا ساتھ دیا ہے اور مدد کی ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ اسامہ بن لادن کو پناہ دینا ہو یا پھر حقانی نیٹ ورک کے ساتھ گٹھ جوڑ ہو، دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کس کے ساتھ ہے اس کے کافی ثبوت ہیں اور یہ واضح ہے کہ وہ ’امریکہ کے ساتھ نہیں ہے۔‘

Image caption ٹیڈ پو نے ایک ایسا ہی بل گذشتہ سال ستمبر میں پیش کیا تھا لیکن اس کے پاس ہونے کے آثار انتہائی کم تھے کیونکہ یہ اوباما انتظامیہ کا آخری دور تھا

بل کے مطابق، ’وقت آ گیا ہے کہ ہم پاکستان کو اس دھوکہ دہی کے لیے انعام دینے پر پابندی لگائیں اور اسے سرکاری طور پر دہشت گردی کو سپانسر کرنے والا ملک قرار دیں۔‘

غور طلب ہے کہ ٹیڈ پو نے ایک ایسا ہی بل گذشتہ سال ستمبر میں پیش کیا تھا لیکن اس کے پاس ہونے کے آثار انتہائی کم تھے کیونکہ یہ اوباما انتظامیہ کا آخری دور میں تھا اور اس پر بحث یا کسی فیصلے کا وقت ہی نہیں بچا تھا۔

ٹیڈ پو نے اس بل کو پیش کرنے کے ساتھ ساتھ دی نیشنل انٹرسٹ میگزین میں سابق نائب وزیر دفاع جیمز كلیڈ کے ساتھ ایک مشترکہ مضمون لکھا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ امریکہ کو پاکستان کے ساتھ تعلقات میں تبدیلی کہ بھارت اور پاکستان کے باہمی رشتوں سے ہٹ کر دیکھنے کی ضرورت ہے کیونکہ وہ پالیسی پرانی ہو چکی ہے۔

ان کے مشورہ ہے کہ جنوبی یا جنوب مغربی ایشیا میں پیدا کسی نئے بحران کی وجہ سے امریکہ کی توجہ نہیں بٹنا چاہیے اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ اور دوسرے ایسے اداروں کا قرض ادا کرنے میں ناکام رہنے والے پاکستان کی مدد کے لیے دوڑنا نہیں چاہیے۔

اس کے پہلے واشنگٹن کے کئی مشہور تھنک ٹینکس اور جنوبی ایشیا کے امور کے ماہرین نے بھی ایک انتہائی سخت رپورٹ کانگریس کے سامنے پیش کی تھی جس میں اسی سے ملتے جلتے مشورے دیے گئے تھے۔

پاکستان کی دلیل رہی ہے کہ دنیا یہ نہیں دیکھ رہی کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف کتنی قربانیاں دی ہیں اور ہمیشہ اس سے ’ڈو مور‘ کا مطالبہ کیا جاتا رہا ہے۔

اسی بارے میں