دنیا انسانی فلاح کے معاملے میں بدترین بحران کا سامنا کر رہی ہے: سٹیون او برائن

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں
اقوام متحدہ کے مطابق یمن میں تقریباً چودہ ملین افراد کو خوراک کی قلت کا سامنا ہے۔

اقوام متحدہ کے اعلیٰ اہلکار کا کہنا ہے کہ دنیا کو اس وقت 1945 کے بعد سے انسانی ہمدردی اور فلاح کے معاملے میں بدترین بحران کا سامنا ہے۔

سٹیون او برائن نے یہ بات سکیورٹی کونسل کو اپنے خطاب کے دوران کہی اور التجا کی کہ انسانیت کو تباہی سے بچانے کے لیے مدد کی جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ آج یمن، صومالیہ، جنوبی سوڈان اور نائجیریا میں دو کروڑ لوگوں کو بھوک اور قحط کا سامنا ہے۔

یونیسیف پہلے ہی خبردار کر چکا ہے کہ اس سال 14 لاکھ بچے بھوکے مر جانے کا امکان ہے۔

سٹیون او برائن کا کہنا تھا کہ انتہائی شدید تباہی سے بچننے کے لیے اس سال جولائی تک 4.4 ارب پاؤنڈ کی ضرورت ہے۔

جمعے کے روز سکیورٹی کونسل سے خطاب میں انھوں نے کہا کہ ’ہم تاریخ کی اہم نہج پر کھڑے ہیں۔ سال کے آغاز پر ہی ہم اقوام متحدہ کی تشکیل سے اب تک کہ بدترین بحران کا سامنا کر رہے ہیں۔‘

’لوگوں کی مشترکہ اور ہم آہنگ کوشش کے بغیر لوگوں مر جائیں گے۔ بچے لاغر اور سکولوں سے لاتعلق ہوں گے۔ لوگوں کے ذریعہِ معاش اور مستقبل تباہ ہو جائیں گے۔ معاشرے میں امید ختم ہو جائے گی اور ترفیاتی کاموں سے ملنے والے فوائد تباہ ہو جائیں گے۔ بہت سے لوگوں کو ہجرت کرنا پڑے گی اور مختلف خطوں میں اور زیادہ عدم استحکام پھیل جائے گا۔‘

یاد رہے کہ گذشتہ ماہ اقوام متحدہ کے نئے سیکرٹری جنرل آنتونیو گوترش نے بھی ایسی ہی ایک اپیل کی تھی۔

اس موقعے پر انھوں نے بتایا تھا کہ بڑے بڑے وعدوں کے باوجود اقوام متحدہ کو 2017 میں اب تک صرف نو کروڑ دالر کی امدادی رقم موصول ہوئی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ UNICEF
Image caption سٹیون او برائن کا کہنا تھا کہ آج یمن، صومالیہ، جنوبی سوڈان اور نائجیریا میں دو کروڑ لوگوں کو بھوک اور قحط کا سامنا ہے۔

اسی بارے میں