شام: دمشق میں دو بم دھماکوں میں کم از کم ’40 عراقی ہلاک‘

دمشق تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption پولیس ان دھماکوں کی تحقیقات کر رہی ہے

عراق کی حکومت کا کہنا ہے کہ شام کے دارالحکومت دمشق میں دو بم دھماکوں میں‌ 40 عراقی شہری ہلاک اور 120 زخمی ہوگئے ہیں۔

یہ حملہ باب الصغیر قبرستان کے قریب کیا گیا جہاں شیعہ مسلمانوں کے کئی اہم مزارات واقع ہیں اور حملے کا نشانہ بننے والوں کے بارے میں بتایا گیا ہے وہ زائرین تھے جو بسوں میں یہاں پہنچے تھے۔

خیال رہے کہ شدت پسند سنی گروہوں کی جانب سے شیعہ مزارات کو اکثر نشانہ بنایا جاتا رہا ہے تاہم دمشق کی بیشتر حصوں میں ایسے حملے بہت کم دیکھے گئے ہیں۔

روس، ترکی اور ایران کی معاونت سے قزاقستان میں شام سے متعلق ہونے والے مذاکرات کا اگلا دور آئندہ ہفتے ہوگا۔

اس سے قبل دسمبر میں طے پانے والے معاہدے کو نافذ تو کر دیا گیا تھا تاہم اب بھی شام میں حملے دیکھنے کو ملتے ہیں۔

شام کے وزیرِ داخلہ میجر جنرل محمد ابراھیم الشار کا کہنا ہے کہ اس حملے کا نشانہ مختلف قومیتوں کے عرب زائرین تھے۔

شام کے سرکاری ٹی وی پر دھماکے سے ہونے والی تباہی کا منظر بھی دکھایا گیا۔ بظاہر یہ دھماکے وہاں موجود بسوں کے ارد گرد ہوئے تھے۔

خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق ٹی وی پر خون سے لت پت گلیاں اور تباہ شدہ بسیں دکھائی گئی ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP

خیال رہے کہ باب الصغیر قبرستان دمشق کے قدیم ترین قبرستانوں میں سے ایک ہے جہاں متعدد اہم مذہبی شخصیات دفن ہیں۔

دمشق کا زیادہ تر حصہ صدر بشار الاسد کے کنٹرول میں ہے تاہم شہر کے نواح میں موجود اصلاع میں باغی گروہ موجود ہیں۔

ابھی یہ واضح نہیں کہ ان حملوں کے پیچھے کون ہے جبکہ عراق کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان احمد جمال نے کہا ہے کہ یہ دہشت گردی کی کارروائی تھی۔

برطانیہ سے شام میں انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے ادارے نے کہا ہے کہ جیسے ہی جائے حادثہ سے گزریں سڑک کے کنارے نصب بم پھٹا اور خودکش حملہ آور نے خود کو دھماکے سے اڑا لیا۔

اس سے قبل جنوری میں کفر سوسا نامی ضلعے میں ہونے والے خودکش حملے میں 10 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

القاعدہ سے تعلق رکھنے والے ایک سابق گروہ جبھت الشام نے دعویٰ کیا ہے کہ اس حملے کے پیچھے وہ تھا۔

اس گروہ کو امن مذاکرات سے نکال دیا گیا تھا۔ بتایا گیا ہے کہ شمال مغرب میں موجود اس کے اڈوں کو شامی فوج اور اس کے روسی اتحادی نشانہ بناتے ہیں۔

ادھر شدت پسند نتظیم دولتِ اسلامیہ کے مضبوط گڑھ موصل پر عراقی حکومت کی فوج حملے کر رہی ہے۔

اطلاعات کے مطابق ماچر 2011 سے لے کر اب تک اب تک تین لاکھ افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور ایک کروڑ دس لاکھ افراد اپنے گھروں کو چھوڑنے پر مجبور ہوئے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں