لوگوں نے ایشیائی خاتون کو آیا کیوں سمجھ لیا؟

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں
ٹی وی پر آنے کو بےقرار بچے

بی بی سی کے ایک انٹرویو کو انٹرنیٹ پر بہت سے لوگ اب تک دیکھ چکے ہوں گے۔

انٹرویو میں انٹرنیشنل ریلیشنز کے پروفیسر رابرٹ کیلی جنوبی کوریا کے بارے میں باتیں کر رہے تھے۔ اسی دوران ان کے دو ننھے منے بچے وہاں آ گئے جسے ان کی اہلیہ نے وہاں سے ہٹایا۔

اس ویڈیو کو تقریباً پونے دو کروڑ بار دیکھا جا چکا ہے اور لاکھوں افراد اس سے محظوظ بھی ہوئے ہیں۔

٭ 'ہم سیاہ فاموں کو ٹِپ نہیں دیتے'

لیکن اس سے یہ بات بھی سامنے آئی کہ بعض میڈیا ہاؤس‎ سمیت بہت سے لوگوں نے پروفیسر کیلی کی بیوی جنگ اے کم کو بچوں کی آیا سمجھ لیا۔

اس کے نتیجے میں سوشل میڈیا میں نسل، جنس اور بین النسل جوڑوں کے متعلق گرما گرم مباحثے چھڑ گئے کہ کس طرح اس کے پس پشت اپنے اپنے تعصبات کام کرتے ہیں۔

کیا مس کم کو نینی یا آیا تصور کیا جانا درست ہے؟

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter
Image caption بی بی سی کے انٹرویو کے بعد سوشل میڈیا پر نسلی امتیازات کے متعلق مباحثہ

یہ درست ہے کہ جنوبی کوریا میں لوگ آیا رکھتے ہیں اور بطور خاص ایسے افراد جہاں ماں باپ دونوں نوکری کرتے ہیں اور دیر تک کام پر رہتے ہیں۔

بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ مز کم کو بچوں کی والدہ کے بجائے ملازمہ تصور کرنا نسلی تعصبات پر مبنی ہے کیونکہ ایشیائی نژاد خواتین کو عام طور پر اسی روپ میں دیکھا جاتا رہا ہے۔

بہت سے لوگوں کا خیال تھا کہ جنگ اے کم نے جس گھبراہٹ کا مظاہرہ کیا اور جس طرح بچوں کو وہاں سے لے گئیں اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ وہ اپنا آیا والا کام انجام دے رہی ہیں اور اس کے بارے میں متفکر تھیں۔

لیکن بعض افراد کا کہنا ہے کہ انھوں نے ایک ماں کی طرح ہی برتاؤ کیا تھا اور وہ واضح طور پر متفکر تھیں کہ ان کے شوہر کا انٹرویو متاثر نہ ہوئے۔

بہرحال انٹرویو کے دوران یہ واضح ہو گیا تھا کہ وہ بچوں کی ماں ہیں کیونکہ ان کی بیٹی نے آ کر پوچھا تھا: 'کیوں؟ کیا ہو گیا؟' اور 'ممی، کیوں؟'

تصویر کے کاپی رائٹ IMTMPHOTO
Image caption افسوس کے میں ڈاکٹر نہیں

بہرحال دانستہ یا نادانستہ طور پر تعصبات کا بعض اوقات اظہار ہوجاتا ہے۔ اس ضمن میں جو دوسرا محرک کام کرتا ہے وہ یہ ہے کہ عام طور پر ایک نسل کے لوگ اپنی ہی نسل والے کے ساتھ تعلق یا رشتہ قائم کرتے ہیں۔

ایک بار میں اپنے تین مرد دوست کے ساتھ ایک کنسرٹ میں موجود تھی جس میں سے دو انگریز تھے جبکہ ایک چینی نژاد برطانوی تھا اور جس کسی سے ہم نے پوچھا انھوں نے یہ خیال ظاہر کیا کہ میں چینی نژاد کے ساتھ ڈیٹ کر رہی ہوں۔

Image caption انٹرویو کے دوران پروفیسر کے بچے چلے آئے تاہم انھوں نے اپنا توازن برقرار رکھا

برطانوی جوڑے ٹیفینی وونگ اور جوناتھ سمتھ کا کہنا ہے کہ جب انھوں نے ڈیٹنگ شروع کی تو انھیں اجنبیوں کی جانب سے تعصبات کا سامنا رہا۔

تاہم یہ معمول نہیں تھا۔ ٹیفینی نے بتایا: لوگ طرح طرح کی باتیں ہمارے بارے میں کرتے۔ ایک بار ہم کسی سڑک سے گزر رہے تھے کہ ایک شخص چیخ کر بولا بہت افسوس کی بات ہے کہ تم ایک ایشین لڑکی کے ساتھ ہو جان۔

ان کے دوست اور اہل خانہ بھی ابتدا میں دوسری نسل کے افراد کے ساتھ رشتے یا تعلق پر متحیر ہوئے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ JONATHAN SMITH
Image caption جوناتھن سمتھ اور ٹیفنی وونگ کو ابتدا میں ناروا سلوک کا سامنا رہا تھا

جان نے کہا: جب میں اپنی منگیتر کو اپنے ساتھیوں سے ملاتا تو وہ اسے کاکیشین سمجھتے اور جب انھیں پتہ چلتا تو وہ حیرت کا اظہار کرتے۔ یہ کوئی خراب بات نہیں۔ لوگوں کے ذہن میں عام طور پر پہلا خیال یہی گزرتا ہے کہ آپ اپنی نسل میں سے کسی سے تعلق قائم کریں۔

ایسے میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا ہر کوئی قیاس آرئی کرتا ہے۔ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ جنگ اے کم کو آیا تصور کرنا سفید فام کا نسلی امتیاز ہے۔ جبکہ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ اس سے لوگوں کو اپنے قیاس و گمان و وہم پر از سر نو غور کرنے کا موقع ملتا ہے۔

اور نسل کے بارے میں قیاس لگانا دو رویہ طرز ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ TWITTER/@MARIACHONG

جنوبی کوریا میں آیا کی خدمات انجام دینے والی فلپائن کی ہیلن (اصلی نام نہیں) کا کہنا ہے کہ کوریا کے لوگ اپنی رنگت کے بارے میں بہت حساس ہیں اور وہ گہرے رنگ والوں کے خلاف امتیازی سلوک روا رکھتے نظر آتے ہیں۔

جبکہ دو سال تک جنوبی کوریا میں کام کرنے والے بی بی سی کے نامہ نگار اینڈریو وڈ نے کہا کہ انھیں وہاں امریکی فوجی سمجھا جاتا تھا۔

انھوں نے بتایا: 'جمعے یا سنیچر کی شب کو ٹیکسی ڈرائیور سفید فام افراد کے لیے مشکل سے ہی گاڑی روکتے ہیں کیونکہ وہ یہ تصور کرتے ہیں کہ ان فوجیوں نے شراب پی رکھی ہوگی اور وہ ان کی ٹیکسی میں قے کر دیں گے۔'

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں