یورپی کمپنیاں دفتر میں حجاب پر پابندی لگا سکتی ہیں: یورپی عدالت

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption عدالت کا کہنا ہے کہ ایسی پابندی گاہکوں کی درخواست پر لاگو نہیں کی جا سکتی

انصاف کی یورپی عدالت نے کمپنیوں کو اس بات کی اجازت دے دی ہے کہ وہ کسی قسم کی ظاہری مذہبی علامت پہننے سے اپنے ملازمین کو منع کر سکتی ہیں۔

اس حکم نامے کے تحت اب یورپی کمپنیاں اپنے ملازمین کو حجاب پہننے سے بھی روک سکیں گے۔

حجاب والی ایموجیز کیوں؟

نیو یارک میں حجاب کا عالمی دن

تاہم یورپ کی اعلیٰ ترین عدالت کا کہنا ہے کہ اس طرح کی کوئی بھی پابندی تمام ملازمین کے مکمل طور پر غیر جانبدارانہ لباس پہننے کی پالیسی پر مبنی ہونی چاہیے۔

عدالت کا کہنا ہے کہ ایسی پابندی گاہکوں کی درخواست پر لاگو نہیں کی جا سکتی۔

دفاتر میں حجاب پہننے کے معاملے پر یہ عدالت کا پہلا فیصلہ ہے۔

اس مقدمے کا آغاز اس وقت ہوا تھا جب بلجیئم میں کمپنی جی فور ایس نے ایک ریپشنسٹ کو حجاب پہننے پر ملازمت سے فارغ کر دیا تھا۔

بلجیئم کی عدالت نے یہ معاملہ یورپین کورٹ آف جسٹس میں بھیج دیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption کئی خواتین حجاب پر پابندی کے خلاف احتجاج بھی کر رہی ہیں

خیال رہے کہ دنیا میں 50 کروڑ افراد کسی نہ کسی قسم کے جحاب کا استعمال کرتے ہیں تاہم یورپ اور دنیا کے دوسرے حصوں میں حجاب اور نقاب پر بحث کا سلسلہ جاری ہے۔

کہیں اس پر پابندی لگائی جاتی ہے تو کہیں پابندی ہٹائی جاتی ہے۔ اس کے تحت یورپ میں مذہبی آزادی، خواتین کے لیے مساوات، سیکولر روایت اور دہشت گردی کے خوف جیسے مسائل پر بھی بحث جاری ہے۔

تاہم حالیے عرصے میں حجاب یا نقاب کو عالمی سطح پر کئی حوالے سے مقبولیت حاصل ہوئی ہے۔

حال ہی میں نیو یارک فیشن ویک میں تاریخ میں پہلی بار ملبوسات کی ایک ایسی کلیکشن پیش کی گئی جس میں تمام ماڈلز نے حجاب پہننے ہوئے تھے۔

جبکہ ملبوسات کی معروف کمپنی ایچ اینڈ ایم نے بھی حال ہی میں ایک ماڈل کو حجاب پہننے اپنے اشتہار میں پیش کیا اور ہائی اینڈ ڈیزائنر کمپنی ڈولچے اور گبانا نے بھی حجاب اور عبایا کی ایک نئی لائن متعارف کروائی ہے۔

ادھر امریکہ میں گزشتہ سال نومبر میں ایک صومالی نژاد امریکی خاتون حلیمہ عدن نے ریاست منیسوٹا میں منعقدہ مقابلۂ حسن میں حجاب اور برکینی پہن کر شرکت کی ہے جس کے بعد وہ وہ امریکہ میں ایسا کرنے والی پہلی خاتون بن گئیں۔

اسی بارے میں