عراق: ’موصل میں بچ جانے والا ہر جنگجو مارا جائے گا‘

موصل تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption سنہ 2014 میں عراق کے دوسرے بڑے شہر موصل پر جہادیوں نے قبضہ کر لیا تھا

عراق کے شہر موصل میں دولت اسلامیہ کے خلاف جاری فوجی کارروائی میں معاونت کرنے والے امریکی ایلچی کا کہنا ہے کہ شہر میں بچ جانے والا ہر جنگجو مارا جائے گا۔

دولت اسلامیہ کے خلاف جاری کارروائی میں شامل سینیئر امریکی اہلکار بریٹ میک گرک نے یہ تنبیہ عراقی فوجوں کی جانب سے شہر جانے والے آخری راستے پر قبضے کے بعد جاری کی ہے، جس سے دولت اسلامیہ کے شدت پسند پھنس گئے ہیں۔

عراق: جیل میں اجتماعی قبر سے 500 افراد کی باقیات برآمد

عراقی افواج کی دولت اسلامیہ کے گڑھ کی طرف پیش قدمی

مشرقِ وسطیٰ 2016 میں بھی سلگتا رہا

سنہ 2014 میں عراق کے دوسرے بڑے شہر موصل پر جہادیوں نے قبضہ کر لیا تھا۔

تاہم عراقی افواج کی جانب سے کئی ماہ جاری رہنے والی کارروائی کے بعد کئی علاقوں پر دوبارہ قبضہ حاصل کر لیا گیا ہے۔

عراقی فوج اس وقت موصل کے تمام مشرقی علاقوں پر قابض ہے۔ پانچ مارچ سے امریکی کی مدد سے شروع ہونے والی حالیہ کارروائی سے شدت پسند مغرب کی جانب کئی اہم جگہوں کو خالی کرنے پر مجبور ہوئے ہیں اور ان مقامات میں مقامی حکومت کا مرکزی دفتر اور موصل کا عجائب گھر بھی شامل ہیں۔

ہفتہ وار چھٹیوں کے دنوں میں شدید لڑائی جاری رہی تاہم مارک میک گرک نے اتوار کو بغداد میں صحافیوں کو بتایا کہ 'گذشتہ رات، عراقی فوج کے نویں ڈویژن نے ۔۔۔۔ موصل سے باہر جانے والے آخری راستے کو منقطع کر دیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ 'موصل میں جنگجوؤں میں سے جو کوئی بھی بچا ہے، وہ مارا جائے گا، کیونکہ وہ پھنس گئے ہیں۔'

'ہم نا صرف موصل میں انھیں شکست دینے کے لیے پرعزم ہیں بلکہ اس امر کو بھی یقینی بنائیں گے کہ وہ بھاگ نہ سکیں۔'

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption یہ خیال کیا جارہا ہے کہ موصل میں دولت اسلامیہ کے زیرکنٹرول علاقوں میں چھ لاکھ شہری بھی پھنسے ہوئے ہیں

عراق کی انسداد دہشت گردی سروس کے سٹاف میجر جنرل کا کہنا تھا کہ اب حکومتی افواج کا مغربی موصل کے 'ایک تہائی سے زیادہ حصے' پر کنٹرول ہے۔

تاہم وفاقی پولیس اور دیگر فورسز کا کہنا ہے کہ وہ اب شہر قدیم کے باب التوب کے علاقے میں داخل ہو چکے ہیں جہاں تنگ گلیوں کے باعث لڑائی میں دشواری پیش آسکتی ہے کیونکہ وہاں سے گاڑیاں نہیں گزر سکتیں۔

یہ خیال ظاہر کیا جارہا ہے کہ موصل میں دولت اسلامیہ کے زیرکنٹرول علاقوں میں چھ لاکھ شہری بھی پھنسے ہوئے ہیں۔

واضح رہے کہ چند روز قبل عراقی افواج کا کہنا تھا کہ موصل کے نزدیک بدوش جیل میں ایک اجتماعی قبر دریافت ہوئی ہے جس میں 500 لوگوں کے باقیات ملے ہیں۔

شیعہ قیادت کی حامل فورسز کا کہنا ہے کہ یہ باقیات ان شہریوں کے ہیں جنھیں قیدی بنا کر نام نہاد تنظیم دولتِ اسلامیہ نے ہلاک کیا تھا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں