ہالینڈ نے ترکی کے لیے نئی سفری ہدایات جاری کر دیں

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption ترکی نے ہالینڈ کے سفارتخانے ساتھ باقاعدہ طور پر اپنا احتجاج ریکارڈ کروایا ہے

ہالینڈ کی حکومت نے اپنے شہریوں کو ترکی کے سفر کے حوالے سے خبردار کیا ہے۔

ہالینڈ کی وزارتِ خارجہ کی طرف سے جاری کی گئی ہدایات میں ترکی میں موجود ہالینڈ کے شہریوں کو محتاط رہنے کو کہا گیا ہے۔

خیال رہے کہ جرمنی اور ہالینڈ کی جانب سے ترک حکومت کو اپنی سرزمین پر جلسے منعقد کرنے کی اجازت نہ دینے پر ترک حکومت نے دونوں ممالک کے خلاف شدید ردِعمل ظاہر کیا تھا۔

ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان نے ان ممالک پر 'نازی' ہونے کا الزام لگایا تھا جس کے باعث سفارت کشیدگی پیدا ہوئی ہے۔

اس حوالے سے ترکی نے ہالینڈ کے سفارتخانے میں باقاعدہ طور پر اپنا احتجاج ریکارڈ کروایا ہے۔

دوسری جانب ہالینڈ کے وزیر اعظم مارک روٹا نے ترک صدر کے بیان کو 'ناقابل قبول' قرار دیا جبکہ جرمنی کے وزیرِ خارجہ نے کہا کہ انھیں امید ہے کہ ترکی 'اپنے حواس بحال کر لے گا۔'

ہالینڈ کے نائب وزیرِاعظم لوڈویجک آشر نے ترک صدر کے بیان کے جواب میں کہا ہے کہ ’ ایک ایسی حکومت جو انسانی حقوق کے حوالے سے پیچھے جارہی ہے، اس کی جانب سے ہمیں نازی کہا جانا قابلِ نفرت ہے۔‘

پیر کو ہالینڈ کی وزراتِ خارجہ کی جانب سے جاری کی گئی سفری ہدایات میں ہالینڈ کے شہریوں کو خبردار کیا گیا ہے کہ وہ ترکی میں مصروف مقامات پر جانے سے گریز کریں۔

دوسری جانب ڈنمارک کے رہنما نے صدر اردوغان سے اپنی طے شدہ ملاقات ملتوی کردی ہے۔

ڈینش وزیر اعظم لارس لوکے راسموسین نے کہا انھیں اس بات پر تشویش ہے کہ ترکی میں 'جمہوری اقدار شدید دباؤ میں ہیں۔'

انھوں نے مزید کہا کہ انھوں نے ملاقات کو اس لیے ملتوی کر دیا ہے کیونکہ اسے ترکی کی جانب سے ہالینڈ پر کی جانے والی تنقید سے علیحدہ نہیں دیکھا جا سکتا تھا۔

خیال رہے کہ ترکی میں 16 اپریل کو صدر کے اختیارات میں اضافے کے لیے جو ریفرینڈم منعقد کیا جا رہا ہے اس کے تحت ترکی کو پارلیمانی طرز حکومت کے بجائے امریکہ کی طرح صدارتی طرز حکومت میں تبدیل کرنے کے بارے میں فیصلہ کیا جائے گا۔

یورپی ممالک میں آباد ترکوں کی ووٹنگ میں شرکت کی حوصلہ افزائی کرنے کے لیے ترک حکومت مختلف یورپی ممالک میں ریلیاں منعقد کر رہی ہے تاکہ صدر کے اختیارات میں اضافے کے حق میں ووٹ حاصل کیے جا سکیں۔

اسی بارے میں