برطانوی ہاؤس آف لارڈز نے بریگزٹ بل منظور کر لیا

ہاؤس آف لارڈز تصویر کے کاپی رائٹ PA

برطانوی ایوان بالا یعنی ہاؤس آف لارڈز نے بھی بریگزٹ بل کی منظوری دیتے ہوئے برطانیہ کے لیے یورپی یونین کو چھوڑنے کے لیے مذاکرات شروع کرنے کی راہ ہموار کر دی ہے۔

امکان ہے کہ اس بل کو شاہی توثیق حاصل ہونے کے بعد منگل کے روز قانون کی شکل دے دی جائے گی۔

بی بی سی کی لارا کیونزبرگ کا کہنا ہے کہ اس بل کی منظوری کے بعد ٹریزا مے کو موقع مل جائے گا کہ وہ یورپی یونین سے نکلنے کے مذاکرات کا بٹن دبا دیں۔

وزیر اعظم اصولی طور پر آرٹیکل 50 کے تحت باقاعدہ طور پر بریگزٹ کے عمل کا جلد از جلد آغاز کر سکتی ہیں۔

تاہم ڈاوننگ سٹریٹ ذرائع کا کہنا ہے کہ ایسا اس ہفتے تو نہیں ہوگا اور امکان ہے کہ وزیر اعظم رواں ماہ کے اختتام تک یورپی یونین کو برطانیہ کے ارادوں سے آگاہ کرنے کے لیے انتظار کریں گی۔

118 ووٹوں کے مقابلے میں 274 ووٹوں سے یورپی یونین چھورنے کے لیے بل کو بنا ترمیم کے منظور کیا گیا۔

اس سے قبل برطانوی پارلیمان کے ایوان زیریں نے حتمی ووٹ کے ذریعے برطانیہ کے یورپی یونین چھوڑنے کے حوالے سے مذاکرات کے آغاز کی منظوری دی تھی۔

ایوان زیریں میں 122 کے مقابلے 494 ارکان پارلیمان نے وزیراعظم ٹریزا مے کو بریگزٹ مذاکرات شروع کرنے کے حق میں فیصلہ دیا تھا۔

یاد رہے کہ برطانیہ کی عدالت عظمیٰ نے حکم دیا تھا کہ بریگزٹ پر عمل درآمد شروع کرنے کا فیصلہ پارلیمان میں ووٹنگ کے ذریعے کیا جائے۔ اس عدالتی فیصلے کا مطلب یہ تھا وزیراعظم ٹریزا مے ارکان پارلیمان کی منظوری کے بغیر یورپی یونین کے ساتھ بات چیت شروع نہیں کر سکیں گی۔

خیال رہے کہ گذشتہ سال جون میں برطانیہ میں یورپی یونین میں رہنے یا نکل جانے کے سوال پر ہونے والے تاریخی ریفرنڈم کے نتائج کے مطابق 52 فیصد عوام نے یورپی یونین سے علیحدگی ہونے کے حق میں جبکہ 48 فیصد نے یونین کا حصہ رہنے کے حق میں ووٹ دیا تھا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں