سعودی خواتین کونسل میں خواتین کہاں ہیں؟

تصویر کے کاپی رائٹ QASSIM GIRLS COUNCIL
Image caption خواتین کونسل کی سربراہی ورنر کی اہلیہ عبیر بنتِ سلمان کر رہی ہیں تاہم سامنے آنے والی تصویر میں وہ خود موجود نہیں ہیں

یہ اس ملک کے لیے حوصلہ افزا اقدام تھا جو ایک ایسے ملک کی حیثیت سے جانا جاتا ہے جو خواتین کی عوامی زندگی کے لیے کوئی پیلٹ فارم مہیا نہیں کرتا۔

٭سعودی عرب میں ’تبدیلی کی لہر‘

لیکن جب سعودی عرب نے القاسم نامی صوبے میں خواتین کے لیے کونسل کی افتتاحی تقریب منعقد کی تو اس میں عورت کو ہی نظرانداز کر دیا گیا۔

اس تقریب کی جاری کردہ تصاویر میں سٹیج پر 13 مرد دکھائی دیتے ہیں تاہم ایک بھی عورت نظر نہیں آرہی۔

بظاہر خواتین دوسرے کمرے میں موجود تھیں اور وہ ویڈیو لنک پر اس تقریب میں شریک تھیں۔

سنیچر کو سعودی عرب میں ہونے والی اس تقریب کی تصاویر جن میں مرد ہی دکھائی دے رہے ہیں بہت شیئر کی گئی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption اوول آفس میں صدر ٹرمپ اسقاط حمل سے متعلق حکمنامے پر دستخط کرتے ہوئے

اس تصویر کا امریکی صدر کی اس تصویر سے موازنہ کیا جا رہا ہے جس میں وہ اسقاطِ حمل پالیسی پر دستخط کر رہے ہیں تاہم ان کے اردگرد موجود لوگوں میں کوئی عورت دکھائی نہیں دے رہی۔

سعودی عرب میں اس تقریب کا افتتاح شہزادہ فیصل بن مشال بن سعود نے کیا جو کہ صوبائی کے گورنر ہیں۔

اس موقع پر ان کا کہنا تھا کہ 'صوبہ قاسم میں ہم خواتین کو مردوں کی بہن سمجھتے ہیں اور ہم انھیں بہت سے مواقع دینا چاہتے ہیں جن سے عورتوں کو کام کے لیے مدد ملے گی۔'

خواتین کونسل کی سربراہی عبیر بنتِ سلمان کر رہی ہیں جو کہ گورنر کی اہلیہ ہیں تاہم سامنے آنے والی تصویر میں وہ خود موجود نہیں ہیں۔

اسی بارے میں