لیبیا میں تیل کے ٹرمینلز کے کنٹرول کے لیے شدید لڑائی

تصویر کے کاپی رائٹ ABDULLAH DOMA
Image caption شدت پسند گروہ 'بن غازی ڈیفینس بریگیڈ' نے تیل کے ان ٹرمینلز پر ایک ماہ قبل قبضہ کیا تھا

لیبیا کی افواج نے ملک کے مشرقی حصے میں آپریشن کا آغاز کیا ہے۔ اس آپریشن کا مقصد ملک کے دو اہم علاقوں کو شدت پسندوں کے قبضے سے چھڑانا ہے۔

اس آپریشن کی قیادت فیلڈ مارشل خلیفا ہفتار کررہے ہیں۔ لبین فوج کے ترجمان کے مطابق آپریشن بیک وقت زمین، فضا اور پانی کے راستے سے کیا جائے گا۔

شدت پسند گروہ 'بن غازی ڈیفینس بریگیڈ' نے تیل کے ان ٹرمینلز پر ایک ماہ قبل قبضہ کیا تھا۔ راس لانوف اور الصدرا نامی ان علاقوں کا اس سے پہلے لبئین افواج نے ستمبر 2016 میں کنٹرول سنبھالا تھا جس کے بعد سے تیل کی پیداوار دگنی ہوگئی تھی۔

تاہم 'بن غازی ڈیفینس بریگیڈ' کی پیش قدمی کے بعد پیداوار میں کمی آئی اور یہ یومیہ سات لاکھ بیریل کے بجائے چھ لاکھ پندرہ ہزار بیرل تک محدود ہو گئی۔

راس لانوف اور الصدرا پیداوار کے حوالے سے لیبیا کے دو سب سے اہم علاقے ہیں تاہم حکومتی فورسز اور شدت پسندوں کے درمیان لڑائی کی وجہ سے یہ بری طرح تباہ ہو گئے تھے۔

واضع رہے کہ لیبیا کی افواج نے بن غازی کے نزدیک دو زوئیٹینا اور بریگا نامی تیل کے کنوؤں کا کنٹرول برقرار رکھا ہوا ہے۔

'بن غازی ڈیفینس بریگیڈ' کا شمار ان گروہوں میں ہوتا ہے جو لیبیا میں سنہ 2011 میں کرنل قذافی کے خلاف ہونے والی بغاوت کے بعد سامنے آئے تھے۔

اسی بارے میں