ترک صدر کا ہالینڈ پر مسلمانوں کے قتل عام کا الزام

اردوغان تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

ترک صدر کی جانب سے ہالینڈ پر 1995 میں بوسنیا ہرسیگووینا کے شہر سریبرینتسا میں مسلمان مردوں اور لڑکوں کے قتل عام کا الزام لگانے کے بعد دونوں ممالک کے درمیان الفاظ کی جنگ میں شدت آگئی ہے۔

صدر رجب طیب اردوغان کا کہنا ہے کہ ’ناکامی اب بھی ہالینڈ کے اعصاب پر سوار ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ہالینڈ کی اخلاقیات ٹوٹ چکی ہے۔‘

دوسری جانب ہالینڈ کے وزیر اعظم مارک روٹا نے اس بیان کو ’گھٹیا جھوٹ‘ قرار دیا ہے۔

مارک روٹا نے بی بی سی کو بتایا کہ ’مسٹر اردوغان ہر ایک گھنٹے بعد مزید جذباتی ہوتے جا رہے ہیں اور میں چاہتا ہوں کہ وہ پرسکون رہیں۔‘

اس سے ترکی نے ہالینڈ کی جانب سے اس کے وزرا کو ریفرینڈم کے لیے مہم چلانے سے روکنے کے بعد کئی جوابی اقدامات کا اعلان کیا تھا۔

ترک نائب وزیر اعظم نعمان کرتلمش نے کہا تھا کہ ہالینڈ کے سفیر کو انقرہ واپس آنے سے روکا جائے گا اور اعلیٰ سطح کے سیاسی مذاکرات منسوخ کیے جائیں گے۔

خیال رہے کہ ترکی کی جانب سے جرمنی، آسٹریا، سوئٹرزلینڈ اور ہالینڈ میں ریلیاں نکالنے کی کوشش کو روکا گیا تھا۔

اس حوالے سے ترکی نے ہالینڈ کے سفارتخانے میں باقاعدہ طور پر اپنا احتجاج ریکارڈ کروایا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان نے ان ممالک پر 'نازی' ہونے کا الزام لگایا تھا جس کے باعث سفارتی کشیدگی پیدا ہوئی ہے۔

استنبول میں بی بی سی کے مارک لوون کا کہنا ہے کہ دو نیٹو اتحادی ترکی اور ہالینڈ اس وقت ’غیر معمولی سفارتی بحران میں ہیں۔‘

پیر کو نعمان کرتلمش کا کہنا تھا کہ ’ہم بالکل وہی کر رہے ہیں جو انھوں نے ہمارے ساتھ کیا۔ ہم ہالینڈ کے سفیروں یا ایلچیوں کو لانے والے طیاروں کو ترکی میں اترنے یا ہماری فضائی حدود استعمال کرنے نہیں دیں گے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’اس قسم کے بحران پیدا کرنے والے ہی اس کو ٹھیک کرنے کے ذمہ دار ہیں۔‘

دریں اثنا جرمن چانسلر انگیلا میرکل نے ہالینڈ کو ’مکمل حمایت اور ساتھ دینے کا کہا ہے۔‘

اس سے قبل ہالینڈ کی وزارتِ خارجہ کی طرف سے جاری کی گئی ہدایات میں ترکی میں موجود ہالینڈ کے شہریوں کو محتاط رہنے کو کہا گیا تھا۔

اسی بارے میں