لندن میں یہودیوں سے ہوشیار رہنے کا سائن بورڈ آویزاں

تصویر کے کاپی رائٹ PA
Image caption مقامی لوگوں میں بعض کا یہ بھی کہنا ہے کہ یہ سب ایک پرینک کا حصہ ہے

شمالی لندن میں یہودیوں کی ایک عبادت گاہ کنیسہ کے باہر ایک بورڈ نصب کیا گیا ہے جس میں بظاہر لوگوں کو یہودیوں سے ہوشیار رہنے کی تلقین کی گئی ہے۔

سڑک کے کنارے نصب اس بورڈ کی نشاندہی سٹیمفورڈ ہل میں ایک یہودی گروہ نے کی۔ اس بورڈ پر ایک آرتھوڈوکس یہودی کی شبیہہ بنی ہے جس نے قدامت پسند یہودیوں کی روایتی ٹوپی پہن رکھی ہے۔

’اگر امریکی مسلمانوں کا اندراج ہوا تو میں بھی مسلمان ہوں گی‘

شومرم این ای نامی اس گروہ کا کہنا ہے کہ اس سائن بورڈ نے یہودی برادری میں ’پریشانی‘ پیدا کر دی ہے۔

تاہم مقامی لوگوں میں بعض کا یہ بھی کہنا ہے کہ یہ سب کسی پرینک یا ’مذاق‘ کا حصہ تھا۔

بی بی سی کو معلوم ہوا ہے کہ ایک بوڑھی عورت اور ایک موٹے آدمی والے سائن بورڈ بھی اسے علاقے میں ملے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ @JSAVAGETWEETS
Image caption بی بی سی کو معلوم ہوا ہے کہ ایک بوڑھی عورت اور ایک موٹے آدمی والے سائن بورڈ بھی اسے علاقے میں ملے ہیں

شومرم کا کہنا ہے کہ ایسے ایک بورڈ کے بارے میں پولیس کو نشاندہی کر دی گئ ہے۔

گروپ کے رکن بیری بارڈ کا کہنا ہے کہ یہ ایسے کسی سائن بورڈ کے دکھائی دیے جانے کا پہلا واقعہ ہے اور اس کی نوعیت نے مقامی یہودی آبادی میں خدشات پیدا کر دیے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ’ایسا کرنے والے شخض نے یقیناً مقامی لوگوں میں تشویش پیدا کرنے کے لیے کافی محنت کی ہے۔‘

بی بی سی ریڈیو لندن کے نامہ نگار جوناتھن سیویج کو مقامی لوگوں نے بتایا کہ وہ ’اس بارے میں زیادہ پریشان نہیں ہیں۔‘

ان کے مطابق بعض لوگوں نے اس سائن بورڈ پر ردِ عمل کو بلاوجہ کی تشویش قرار دیا ہے۔

ممبر پارلیمان ڈین ایبٹ نے اسے قابلِ نفرت اور ناقابلِ قبول قرار دیا۔

ہیکنی کونسل کے مطابق سیمفورڈ ہِل میں اندازاً 30 ہزار یہودی آباد ہیں جو یہاں کی سب سے بڑی برادری ہے۔

اسی بارے میں