’دروازہ بند نہ کرنا میری غلطی تھی‘

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں
ٹی وی پر آنے کو بےقرار بچے

انٹرنیشنل ریلیشنز کے پروفیسر رابرٹ کیلی کی ان کے دو ننھے بچوں کے باعث منقطع ہونے والے انٹرویو کے بعد ایک بار پھر بی بی سی نیوز پر واپسی ہوئی ہے۔

اس بار وہ بی بی سی پر اپنی اہلیہ جنگ اے کم اور بچوں ماریئن اور جیمز کے ہمراہ گذشتہ ہفتے ملنے والی غیر متوقع شہرت اور اس سارے واقعے کے بارے میں بتانے آئے۔

خیال رہے کہ گذشتہ ہفتے پروفیسر رابرٹ کیلی بی بی سی کو ایک انٹرویو میں جنوبی کوریا کے بارے میں بتا رہے تھے کہ ان کے دو ننھے منے بچے وہاں آ گئے جنھیں بعد میں ان کی اہلیہ نے وہاں سے ہٹایا۔

اس کے بعد ان کے اس انٹرویو کی ویڈیو انٹرنیٹ پر وائرل ہوگئی تھی۔

اس سارے واقعے کے بارے میں بتاتے ہوئے پروفیسر رابرٹ کیلی کی اہلیہ کا کہنا تھا کہ وہ ساتھ والے کمرے میں ٹی وی پر یہ انٹرویو دیکھ رہی تھیں، کہ اچانک انھیں خیال آیا کہ دروازہ کھلا ہے اور ان کے بچے وہیں گئے ہیں۔

جس پر رابرٹ کیلی نے مسکراتے ہوئے کہا کہ ’دروازہ بند نہ کرنا میری غلطی تھی۔‘

انھوں نے کہا کہ ’جب ہم نے یہ ویڈیو دیکھی تو ہم خوب ہنسے لیکن ہمیں پریشانی بھی ہوئی۔‘

پروفیسر رابرٹ کیلی کے مطابق انھیں سب سے زیادہ پریشانی اس بات کی تھی کہ اس واقعے کے بعد اب بی بی سی ان سے کبھی رابطہ نہیں کرے گا۔

’سب سے پہلی چیز جو ذہن میں آئی وہ یہ تھی کہ بی بی سی کے ساتھ ہمارا تعلق ختم ہوگیا۔‘

پروفیسر رابرٹ نے بتایا کہ شروع میں تو انھوں نے کافی کوشش کی کہ ان کی بیٹی چلی جائے یا کوئی کتاب لے کر وہیں بیٹھ جائے لیکن جب انھوں نے اپنے بیٹے کو بھی اندر آتے دیکھا تو انھوں نے خو د سے کہا کہ ’اب کچھ نہیں ہو سکتا۔‘

رابرٹ کیلی جیسے ہی لوگوں کی جانب سے ان کی اہلیہ کو آیا سمجھے جانے کے سوال کا جواب دینے لگے تو ان کی اہلیہ نے بات کاٹتے ہوئے خود خود ہی جواب دینا ضروری سمجھا۔

جنگ اے کم کا کہنا تھا کہ ’لوگوں کو اس ویڈیو سے لطف اندوز ہونا چاہیے نہ کہ وہ اس پر بحث کریں، میں آیا نہیں ہوں یہ ہی سچ ہے، تو میرے خیال میں ساری بحث یہاں ختم ہو جانی چاہیے۔‘

خیال رہے کہ بعض میڈیا ہاؤس‎ سمیت بہت سے لوگوں نے پروفیسر کیلی کی بیوی جنگ اے کم کو بچوں کی آیا سمجھ لیا تھا۔

جس کے نتیجے میں سوشل میڈیا میں نسل، جنس اور بین النسل جوڑوں کے متعلق گرما گرم مباحثے چھڑ گئے کہ کس طرح اس کے پس پشت اپنے اپنے تعصبات کام کرتے ہیں۔

اسی بارے میں