سکاٹ لینڈ کی آزادی کے لیے دوبارہ ریفرینڈم کا مطالبہ مسترد

مے تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption وزیر اعظم مے کا کہنا ہے بریگزٹ کے لیے پورے برطانیہ کے لیے بہترین معاہدے پر توجہ ہونی چاہیے

برطانوی حکومت نے بریگزٹ سے پہلے سکاٹ لینڈ‌ کی آزادی کے لیے ریفرینڈم کا مطالبہ مسترد کر دیا ہے جبکہ وزیراعظم ٹریزا مے کا کہنا ہے کہ ’ابھی یہ وقت نہیں ہے۔‘

وزیر اعظم مے کا کہنا ہے بریگزٹ کے لیے پورے برطانیہ کے لیے بہترین معاہدے پر توجہ ہونی چاہیے۔

سکاٹ لینڈ کی کنزرویٹیو رہنما روتھ ڈیویسن کا کہنا ہے کہ نکولا سٹرجن کا سنہ 2019 میں ووٹنگ 'قطعا مسترد کر دیا جائے گا۔'

جبکہ نکولا سٹرجن کا کہنا ہے ریفرینڈم کا راستہ روکنے سے 'جمہوری غم و غصہ' ظاہر ہو گا۔

سکاٹ لینڈ کی وزیر اول نکولا سٹرجن نے بی بی سی سکاٹ لینڈ کو بتایا: ’مختصراً یہ کہ یہ واقعی آزادی کی بحث ہے، ویسٹ منسٹر کے خیال میں انھیں جمہوری طور پر منتخب سکاٹش حکومت اور سکاٹ لینڈ کی اکثریت کے مینڈیٹ بلاک کرنے کا حق حاصل ہے۔‘

’آپ جانتے ہیں کہ تاریخ مڑ کر اس دن کو دیکھے گی اور نظر آئے گا کہ اس دن یونین کے تقدیر کو مہربند کر دیا گیا تھا۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption نکولا سٹرجن کا کہنا ہے ریفرینڈم کا راستہ روکنے سے 'جمہوری غم و غصہ' ظاہر ہو گا

نکولا سٹرجن نے خزاں 2018 یا آئندہ سال بہار میں ریفرینڈم کا مطالبہ کیا تھا جبکہ انہی دنوں برطانیہ کے یورپ سے نکلنے کے حوالے سے مذاکرات اختتام تک پہنچیں گے۔

تاہم وزیراعظم مے نے نکولا سٹرجن کا واضح پیغام دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’ابھی وہ وقت نہیں ہے۔‘

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ 'میرے خیال میں ہمیں سکاٹ لینڈ اور برطانیہ کے یورپی یونین کے ساتھ مستقل کی شراکت کے حوالے سے مل کر کام کرنا چاہیے۔'

خیال رہے کہ سکاٹ لینڈ کی آزادی کے پہلا ریفرینڈم جو 18 ستمبر سنہ 2014۔ میں ہوا تھا اس میں 55فیصد ووٹ آزادی کی مخالفت میں ڈالے گئے تھے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں