برطانوی ایجنسی نے ٹرمپ کے فون ٹیپنگ دعوؤں کو مسترد کر دیا

تصویر کے کاپی رائٹ PA
Image caption جی سی ایچ کیو نے ان الزامات کو بکواس بتاتے ہوئے انھیں پوری طرح سے مضحکہ خیز قرار دیا ہے

برطانوی مواصلاتی انٹلیجنس ایجنسی جی سی ایچ کیو نے ایک بیان جاری کر کے امریکی صدارتی انتخابات کے دوران ڈونلڈ ٹرمپ کے فون کی نگرانی کرنے کے الزامات کو سختی سے مسترد کیا ہے۔

وائٹ ہاؤس کے پریس سیکرٹری سیئن سپائسر نے یہ دعوی کیا تھا۔ سب سے پہلے اس طرح کے الزامات امریکی ٹی وی چینل فوکس نیوز کی جانب سے عائد کیے گئے تھے۔

اس کے جواب میں جی سی ایچ کیو نے ان الزامات کو بکواس بتاتے ہوئے انھیں پوری طرح سے مضحکہ خیز قرار دیا اور کہا کہ انھیں نظر انداز کیا جانا چاہیے۔

واضح رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ اوباما نے ٹرمپ ٹاور میں ان کی جیت سے ایک ماہ قبل تک ان کا فون ٹیپ کیا اور یہ کہ ٹرمپ ٹاور کی نگرانی کی گئی تھی۔

برطانوی مواصلاتی انٹیلجنس پر اس طرح کے الزامات سب سے پہلے سابق جج اینڈریو نیپولیٹینو کی جانب سے عائد کیے گئے تھے۔

وائٹ ہا‎ؤس کے ترجمان سپائسر نے انھیں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا: ’تین خفیہ ذرائع نے فوکس نیوز کو بتایا ہے کہ صدر اوباما نے اپنے اختیارات کی حدود کا خیال نہیں رکھا۔ انھوں نے اس بارے میں این سی اے، سی آئی اے، ایف بی آئی یا پھر محکمہ انصاف کا نام نہیں لیا بلکہ جی سی ایچ کیو کا ذکر کیا۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ اوباما نے ٹرمپ ٹاور میں ان کی جیت سے ایک ماہ قبل تک ان کا فون ٹیپ کیا اور یہ کہ ٹرمپ ٹاور کی نگرانی کی گئی تھی

جی سی ایچ کیو کے ایک ترجمان نے اس کے جواب میں کہا: ’حال ہی میں میڈیا کے مبصر جج اینڈریو نیپولیٹانو نے جو الزامات عائد کیے ہیں کہ جی سی ایچ کیو سے نو منتخب صدر کے فون کی نگرانی کرنے کو کہا گيا تھا، قطعی طور بکواس ہیں۔ وہ پوری طرح سے مضحکہ خیز ہیں جنھیں نظر انداز کیا جانا چاہیے۔

ادھر امریکی سینیٹ کی ایک کمیٹی نے بھی ٹرمپ کے ان دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ امریکی صدارتی انتخاب سے قبل یا بعد میں حکومت کی جانب سے ٹرمپ ٹاور کی نگرانی کرنے کے ’اشارے نہیں‘ ملے ہیں۔

رپبلکن سینٹر اور سینیٹ کی انٹیلیجنس کمیٹی کے چیئرمین رچرڈ بر کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے فون کو ٹیپ کیے جانے کے دعوی کو مسترد کیا گیا ہے۔

رچرڈ بر کے ہمراہ قانون سازی کرنے والے عملے کے ارکان بھی شامل تھے جنھوں نے ان الزامات کو مسترد کیا۔

اس سے قبل جمعرات کو ہی ہاؤس سپیکر پال رائن نے بھی کہا تھا کہ ’فون کی نگرانی جیسا کچھ بھی نہیں ہے۔‘

لیکن وائٹ ہاؤس کے پریس سکریٹری سپائسر کا کہنا ہے کہ ٹرمپ اپنے اس دعوے پر قائم ہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سابق صدر براک اوباما پر الزام لگایا ہے کہ انھوں نے ان کے منتخب ہونے سے ایک ماہ قبل ان کی فون کالز ٹیپ کی تھیں۔

ڈونلڈ ٹرمپ کا ایک ٹویٹ کی ذریعے کہنا تھا کہ ’افسوس ناک! ابھی معلوم ہوا ہے کہ اوباما نے ٹرمپ ٹاور میں میری جیت سے ایک ماہ قبل میرا 'فون ٹیپ کیا'۔ کچھ نہیں ملا، یہ مشتبہ کارروائی ہے۔‘

اس کے جواب میں سابق امریکی صدر براک اوباما کے ترجمان کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ کی جانب سے فون کالز کی نگرانی کے الزامات بالکل جھوٹے ہیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں