انگیلا میرکل اور ٹرمپ کے درمیان دفاع اور تجارت پر بات چیت ہوگی

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption دونوں رہنما تجارت، دفاع اور نیٹو تعلقات سمیت کئی اہم مسائل پر بات کریں گے

جرمن چانسلر انگیلا میرکل واشنگٹن میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کرنے والی ہیں جہاں دونوں رہنما تجارت، دفاع اور نیٹو تعلقات سمیت کئی اہم مسائل پر بات کریں گے۔

انگیلامیرکل کے ساتھ امریکی دورے پر سیمنز، شیفر اور بی ایم ڈبلیو جیسی بڑی جرمن کمپنیوں کے اعلی افسران بھی ساتھ ہوں گے۔

محترمہ میرکل کا دورہ امریکہ منگل سے شروع ہونے والا تھا لیکن برفیلے طوفان کی وجہ سے اسے موخر کر دیا گيا۔

جمعے کے روز بات چیت سے قبل جرمن چانسلر نے جرمن اخباروں سے بات چیت میں کہا کہ ٹرمپ کے ساتھ پہلی ملاقات کے تئیں وہ پرامیدیں ہیں۔

انھوں نے کہا: 'ہمیشہ ہی ایک دوسرے کے بارے بات کرنے کے بجائے ایک دوسرے سے بات چیت کرنا بہتر ہوتا ہے۔'

امریکی صدر نے اپنی انتخابی مہم کے دوران امریکہ میں کار بنانے والی جرمن کمپنیوں پر اضافی ٹیکس نافذ کرنے کی دھمکی دی تھی اور جرمنی سے دفاعی بجٹ میں اضافہ کرنے کو کہا تھا۔

اس پر جرمن چانسلر کا کہنا تھا کہ امریکہ میں بہت زیادہ براہ راست جرمن سرمایہ کاری ہے۔ انھوں نے کہا کہ 'امریکہ میں بی ایم ڈبلیو کا تنہا پلانٹ جنرل موٹرز اور فورڈ دونوں سے بھی زیادہ کاریں امریکہ سے برآمد کرتا ہے۔ میں یہ سب بہت واضح کروں گي۔'

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption میرکل کا دورہ امریکہ منگل سے شروع ہونے والا تھا لیکن برفیلے طوفان کی وجہ سے اسے موخر کر دیا گيا

دونوں رہنماؤں کے درمیان بعض کلیدی مسائل پر اختلافات پائے جاتے ہیں جس کا دونوں نے کھل کا اظہار بھی کیا اس تناظر میں اس دورے کو بڑی اہمیت دی جا رہی ہے۔

جنوری میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ جرمن چانسلر نے لاکھوں پناہ گزینوں کو جرمنی میں آنے کی اجازت دے کر تباہ کن غلطی کی۔

اس کے رد عمل میں محترمہ میرکل نے کہا تھا کہ یورپ کو ٹرمپ سے سکھنے کی ضرورت نہیں اور وہ اپنی ذمہ داریاں خود سمجھتا ہے۔ ہم یورپیئن کی تقدیر خود ہمارے ہاتھوں میں ہے۔'

انگیلا میرکل نے صدر ٹرمپ کی جانب بعض مسلم اکثریتی ممالک پر عائد کی جانے والی سفری پابندیوں پر بھی نکتہ چینی کی تھی۔

دونوں رہنماؤں کے درمیان دو گھنٹے سے بھی زیادہ کی بات چیت کا امکان ہے جس کے بعد ظہرانے کا اہتمام کیا گیا ہے۔

اس ملاقات میں روس، شام، ایران، شمالی کوریا اور مشرقی وسطی سمیت کئی ممالک کے تئیں خارجہ پالیسی پر بھی بات چیت کا امکان ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں