نیوزی لینڈ نے امریکی سفارتکار کو ملک بدر کردیا

نیوزی لینڈ تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

نیوزی لینڈ‌ میں امریکی سفارتخانے کی جانب سے استثنیٰ کا حق استعمال کرتے ہوئے پولیس کو تفتیش کی اجازت نہ دینے کے بعد ایک امریکی سفارتکار کو ملک سے نکال دیا گیا ہے۔

امریکی سفارتکار مبینہ طور پر 12 مارچ کو پیش آنے والے ایک واقعے میں ملوث تھا جبکہ پولیس کی جانب سے سفارتکار سے پوچھ گچھ کی درخواست کو سفارتخانے نے مسترد کر دیا تھا۔

اس کے بعد نیوزی لینڈ نے امریکہ سے اس کو واپس بلانے کا مطالبہ کیا تھا۔ امریکی حکام نے تصدیق کی ہے کہ وہ مذکورہ شخص سنیچر کو ملک چھوڑ چکا ہے۔

پولیس کی جانب سے الزامات کی تفصیلات فراہم کرنے سے انکار کیا گیا ہے۔

تاہم نیوزی لینڈ ریڈیو کے مطابق ایک شخص جس کی ناک پر زخم اور آنکھ کے گرد سیاہ نشان تھے ملک چھوڑ چکا ہے، اس شخص کا نام ظاہر نہیں کیا گیا۔

دوسری جانب پولیس کا کہنا ہے کہ ویلنگٹن کے قریب پیش آنے والے اس واقعے کی تفتیش جاری رہے گی۔

واضح رہے کہ نیوزی لینڈ میں کام کرنے والے تمام سفارتی عملے کو سنہ 1961 کے ویانا معاہدے کے تحت قانونی کارروائی سے استثنیٰ حاصل ہے۔

تاہم نیوزی لینڈ کی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ انھوں نے ’نیوزی لینڈ میں تمام سفارتی عملے پر واضح کیا ہے کہ وہ امید کرتے ہیں کہ غیرملکی سفارتکار نیوزی لینڈ کے قانون کا احترام کریں، اور اگر سخت جرائم کے الزامات ہیں تو استثنیٰ کا حق استعمال نہ کریں۔‘

خیال رہے کہ ویلنگٹن میں امریکی سفارتخانے میں فی الوقت کوئی مستقل سفیر تعینات نہیں ہے۔ جنوری میں ڈونلڈ ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے سابق صدر براک اوباما کے تعینات کردہ سفیر کو واپس بلا لیا گیا تھا۔

امریکی سفارتخانے کا کہنا ہے کہ اس نے مذکورہ زیرتفتیش معاملے کی تفصیلات سے متعلق کوئی بیان جاری نہیں کیا ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں