شام: حکومت مخالف باغیوں کے حملے کے بعد دمشق میں شدید لڑائی جاری

دمشق تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption سرکاری فوج نے دمشق کے مرکز کے تمام راستے بند کر دیے ہیں

شام کے دارالحکومت دمشق کے نواح میں شام کی فوج اور باغیوں کے درمیان شدید لڑائی جاری ہے۔

دمشق کے رہائشیوں کا کہنا ہے کہ دمشق کے مشرق میں شدید لڑائی جاری ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ باغیوں کے اچانک حملے کے نتیجے میں دمشق شہر کے مرکزی علاقے میں بھی گولے گرے ہیں اور راکٹ داغے گئے ہیں۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ حملہ آوروں نے حکومت کی دفاعی لائن کو توڑنے کی کوشش سے قبل جوبر ضلعے میں دو خودکش کار بم دھماکے کیے۔

٭ دمشق میں دو بم دھماکوں میں کم از کم ’40 عراقی ہلاک‘

٭ شام کا بحران: باغی امن مذاکرات میں شرکت کے لیے تیار

فوج نے حملے کے جواب میں فضائی حملے کیے جبکہ شام کی سرکاری میڈیا کے مطابق جوبر کے علاقے میں حملے کے لیے خفیہ سرنگوں کا بھی استعمال کیا گیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption حالیہ مہینوں میں باغیوں کے قبضے والے مشرقی علاقوں کو شدید نقصان پہنچا ہے

دمشق میں حزب اختلاف کے قبضے والے چند ہی علاقے ہیں اور جوبر شہر کے مرکز سے قریب ترین ہے۔ جنگ سے تباہ علاقوں پر قبضے کے لیے ایک جانب باغیوں اور جہادیوں اور دوسری جانب حکومتی فورسز کے درمیان دو سال سے زیادہ عرصے سے لڑائی جاری ہے۔

دمشق میں عالمی خبرساں ادارے اے ایف پی کے نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ سرکاری فوج نے عسکری اہمیت کے حامل عباسی سکوائر کے تمام راستے بند کر دیے ہیں جبکہ شہر دھماکوں سے لرزاں ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption شام کے عوام چھ سال سے جنگ کی سختیوں کو جھیل رہے ہیں

برطانیہ میں مبنی شام کے لیے انسانی حقوق کی آبزرویٹری کا کہنا ہے کہ باغیوں نے برزہ، تشرین اور قابون اضلاع میں سرکاری فورسز کے دباؤ کو کم کرنے کے لیے ان حملوں کی ابتدا کی تھی۔ گذشتہ بدھ کو دمشق کے مرکز میں ہونے والے ایک خود کش حملے میں کم از کم 31 افراد مارے گئے تھے۔

اس کے بعد ربوہ کے مغربی ضلعے میں ہونے والے ایک خود کش حملے میں کم از کم 20 افراد زخمی ہوئے تھے۔

یہ حملے صد بشار الاسد کے خلاف بغاوت کی چھٹی سالگرہ کے موقعے پر کیے گئے ہیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں