ٹرمپ کےٹیلیفون ٹیپ ہونے کا کوئی ثبوت موجود نہیں : ایف بی آئی

  • 21 مار چ 2017
مسٹر کومی تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption مسٹر کومی سماعت کے دوران روس اور مسٹر ٹرمپ کی مہم کے مابین روابط کے بارے میں بات کریں گے

امریکہ کے تفتیشی ادارے ایف بی آئی کے سربراہ جیمز کومی نے کانگریس کی انٹیلجنس کمیٹی کو بتایا ہے کہ ان کے ادارے کے پاس ایسی کوئی شہادت نہیں موجود نہیں ہے جس سے یہ ثابت ہوتا ہو کہ صدر براک اوباما کے دور میں موجودہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ٹیلیفون ٹیپ کیے گئے ہوں۔

ایف بی آئی کے سربراہ نے مزید کہا کہ ان کا ادارہ یہ معلوم کرنے کی کوشش کر رہا ہے کہ کیا روس نے گذشتہ صدارتی انتخابات میں مداخلت کی کوشش کی تھی یا نہیں۔

ایف بی آئی کے ڈائریکٹر جیمز کومی اور این ایس اے کے ایڈمرل مائیک راجرز کانگریس کی انٹیلیجنس کمیٹی کے سامنے سماعت کے لیے پیش ہوئے ہیں اوراپنا موقف پیش کر رہے ہیں۔ خیال رہے کہ اس طرح کی 'اوپن ہیئرنگ' شاذ و نادر واقعات میں ہی کی جاتی ہے۔

٭ ’ایوانِ نمائندگان کے سپیکر بھی ٹرمپ کی حمایت سے دستبردار‘

٭ ہم دونوں ہی کے فون ٹیپ کیے گئے: ڈونلڈ ٹرمپ

امریکی انٹیلیجنس ایجنسیوں اور میڈیا نے امریکی صدارتی انتخابات پر اثر انداز ہونے کے لیے روسی انٹیلیجنس ایجنسیوں کے بارے میں بات کہی تھی۔

لیکن روس امریکی انتخابات کو متاثر کرنے کے الزامات کی تردید کرتا رہا ہے جبکہ مسٹر ٹرمپ اس طرح کی جانچ کو 'مکمل وچ ہنٹ' قرار دیتے ہوئے اس کی مذمت کرتے رہے ہیں۔

رواں سال جنوری میں امریکی انٹیلیجنس ایجنسیوں نے خیال ظاہر کیا تھا کہ کریملین کے حمایت یافتہ ہیکرز نے سینیئر ڈیموکریٹ رہنماؤں کی ای میلز تک رسائی حاصل کر لی تھی اور بعض شرمسار کرنے والے میلز کو جاری کر دیا تھا تاکہ مسٹر ٹرمپ کی مسز کلنٹن کو شکست دینے مدد ہو۔

دونوں ایجنسیوں کے سربراہوں کو وائٹ ہاؤس کی کمیٹی کے چیئرمین اور ریپبلیکن رہنما ڈیون نیونس اور ڈیموکریٹ کے ٹاپ اہلکار ایڈم سکف نے مدعو کیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption وائٹ ہاؤس کی کمیٹی کے چیئرمین اور ریپبلیکن رہنما ڈیون نیونس اور ڈیموکریٹ کے ٹاپ اہلکار ایڈم سکف نے دونوں سربراہان کو مدعو کیا ہے

مسٹر نیونس نے اتوار کو دعوی کیا تھا کہ 'آج صبح تک جن چیزوں کو میں نے دیکھا ہے اس کی بنیاد پر کہہ سکتا ہوں کہ روس اور ٹرمپ مہم کے درمیان ساز باز کے کوئی شواہد نہیں ہیں۔'

بہر حال مسٹر سکف نے کہا ہے کہ بہت سے مواد سے واقعاتی شہادت ملتی ہے کہ امریکی شہریوں نے ووٹ کو متاثر کرنے کے لیے روس کے ساتھ ساز باز کی۔

انھوں نے کہا: ’میل جول کے واقعات شواہد ہیں، میرے خیال سے فریب کے براہ راست شواہد ہیں۔‘

انھوں نے مزید کہا: ’یہ شواہد اتنے ضرور ہیں کہ ان کی بنیاد پر جانچ کی جائے۔‘

ٹرمپ کی انتظامیہ کے دو سینیئر اہلکار اٹارنی جنرل جیف سیشن اور قومی سلامتی کے سابق مشیر مائیکل فلن کو اس معاملے میں پکڑا گیا ہے۔

مسٹر سیشن نے خود کو ایف بی آئی کی جانچ سے علیحدہ کر لیا ہے۔ ان پر ڈیموکریٹس کی جانب سے یہ الزام ہے کہ انھوں نے جنوری میں حلف لینے کے باوجود جھوٹی گواہی دی اور کہا کہ 'روس کے ساتھ ان کا کوئی رابطہ نہیں تھا' لیکن بعد میں یہ بات سامنے آئی کہ انھوں نے امریکہ میں روس کے سفیر سرگیئی کسلیاک سے انتخابی مہم کے دوران ملاقات کی تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption مسٹر ٹرمپ نے اوباما انتظامیہ پر انتخابی مہم کے دوران فون ٹیپ کرنے کا الزام لگایا ہے

مسٹر فلن کو وائٹ ہاؤس سے گذشتہ ماہ اس وقت برخاست کر دیا گیا جب انھوں نے ماسکو کے سفیر سے گفتگو کے بارے وائٹ ہاؤس کو گمراہ کیا۔

انھوں نے مبینہ طور پر امریکی پابندیوں پر بات کی تھی۔

سوموار کو ہونے والی سماعت میں مسٹر ٹرمپ کے اس دعوے پر بھی روشنی پڑے گی کہ اوباما انتظامیہ نے انتخابی مہم کے دوران نیویارک میں قائم ٹرمپ ٹاور کے فون ٹیپ کروائے تھے۔

اس بارے میں مسٹر ٹرمپ نے کوئی ثبوت پیش نہیں کیے اور سینیئر ریپبلکن اور ڈیموکریٹ رہنماؤں نے ان کے اس دعوے کو مسترد کر دیا ہے۔

مسٹر نیونس نے فاکس نیوز کو اتوار کو بتایا کہ وزارت انصاف کے دستاویزات کے تجزیے سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ فون ٹیپ نہیں کیے گئے تھے۔

اسی بارے میں