آٹھ مسلمان ملکوں کے مسافروں پر دستی سامان میں الیکٹرانکس آلات امریکہ لے جانے پر پابندی

  • 21 مار چ 2017
تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption نئی پابندیوں کی زد میں ممکنہ طور پر 13 ملک آئیں گے

آٹھ مسلمان اکثریتی ملکوں سے امریکہ جانے والی پروازوں پر دستی سامان میں لیپ ٹاپ کمپیوٹر اور ٹیبلیٹس جیسے بڑے الیکٹرانک آلات لانے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔

امریکہ کے داخلی سکیورٹی کے ادارے ڈپارٹمنٹ آف ہوم لینڈ سکیورٹی (ڈی ایچ ایس) کا کہنا ہے کہ دہشت گرد مسافر طیاروں کو تباہ کرنے کے لیے اب نت نئے اور جدید ہتھکنڈے اپنا رہے ہیں۔

ڈی ایچ ایس کے حکام کا کہنا ہے کہ لیپ ٹاپ کمپیوٹروں، ٹیبلٹس، کیمروں، ڈی وی ڈی پلیئرز اور الیکٹرانک گیمز کے اندر بم چھپائے جا سکتے ہیں۔

یہ پابندی نو فضائی کمپنیوں کی ان پروازوں پر عائد کی گئی ہے جو افریقہ اور مشرق وسطی کے دس مختلف ہوائی اڈوں سے امریکہ کے مختلف شہروں کے لیے چلائی جا رہی ہیں۔

نئے سکیورٹی اقدامات کے تحت مسافر بڑے الیکٹرانک آلات اپنے ساتھ صرف اسی صورت میں لے جا سکتے ہیں اگر وہ ان کے اس سامان میں رکھے گئے ہوں جو بک کروایا جاتا ہے۔ جدید موبائیل فون اس پابندی سے مستثنیٰ ہوں گے۔

جن نو فضائی کمپنیوں پر یہ پابندی عائد کی گئی ہے ان میں اردن کی فضائی کمپنی، رائل جارڈینین' مصر کی فضائی کمپنی ایجپٹ ایئر، ترکی کی فضائی کمپنی، ٹرکش ایئرلائن، سعودی عریبین ایئر لائن، کویت ایئر لائن، مراکش کی فضائی کمپنی، رائل ایئر ماروکو، قطر ایئر لائن، متحدہ عرب امارات کی الامارات، اور اتحاد ایئر لائن شامل ہیں۔

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ان فضائی کمپنیوں کو مسافروں کے دستی سامان میں سمارٹ فون سے بڑے الیکٹرانک آلات لانے کی پابندی پر عمل درآمد کے لیے چھینانوے گھنٹوں کا نوٹس دیا گیا ہے جو منگل کی صبح سے شروع ہو گیا ہے۔

امریکی حکام نے یہ واضح نہیں کیا کہ یہ پابندی کب تک لاگو رہے گی۔

جن ہوائی اڈوں سے امریکہ جانے والی پروازوں پر یہ پابندی عائد کی گئی ہے ان میں اردن کے دارالحکومت اومان کا کوئن عالیہ انٹرنیشنل ایئرپورٹ، مصر کا قاہر انٹرنیشنل ایئرپورٹ، ترکی کا اتاترک ایئرپورٹ استنبول، سعودی عرب میں جدہ کا کنگ عبداللہ انٹرنیشنل ایئرپورٹ، ریاض کا کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ، کویت انٹرنیشنل ایئر پورٹ، مراکش کا محمد پنجم انٹرنیشنل ایئرپورٹ ، قطر کا حماد انٹرنیشنل دوحا، دبئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ اور ابوظہبی کا انٹرنیشنل ایئرپورٹ شامل ہیں۔

امریکی میڈیا کے مطابق اس پابندی کے پیچھے خفیہ معلومات ہیں جو امریکی اداروں نے بیرونِ ملک جمع کی ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

’لیپ ٹاپ بم‘

گذشتہ فروری کو صومالیہ کے دارالحکومت موغادیشو سے اڑنے والے ایک جہاز میں پرواز کے تھوڑی ہی دیر بعد دھماکہ ہوا تھا۔

تفتیش کاروں کے مطابق جہاز میں ایک مسافر لیپ ٹاپ بم لے کر آ گیا تھا جس کے دھماکے سے جہاز میں سوراخ ہو گیا اور وہ مسافر نیچے گر گیا۔ تاہم پائلٹ جہاز کو حفاظت سے اتارنے میں کامیاب ہو گیا اور اس میں خودکش حملہ آور کے علاوہ کوئی اور ہلاکت نہیں ہوئی تھی۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر جہاز زیادہ بلندی پر پرواز کر رہا ہوتا تو اس کا تباہ ہونا یقینی تھا۔

اس دھماکے کی ذمہ داری القاعدہ سے وابستہ اسلامی شدت پسند تنظیم الشباب نےقبول کی تھی۔

امریکی خفیہ اداروں کو خدشہ ہے کہ امریکہ آنے والی پروازوں میں بھی اسی قسم کے حملے ہو سکتے ہیں۔

اسی بارے میں