شامی ثقافت بچانے کے لیے نئی ٹیکنالوجی

سمارٹ واٹر ٹیکنالوجی تصویر کے کاپی رائٹ SMARTWATER TECHNOLOGY
Image caption رومی پچی کاری کے ایک قدیم نمونے پر سمارٹ واٹر لگایا جا رہا ہے

حالیہ برسوں میں دہشت گردوں اور جرائم پیشہ عناصر نے شام اور عراق کے انمول ثقافتی ورثے کو بے تحاشا نقصان پہنچایا ہے۔

وہاں سے چوری شدہ نوادرات امریکہ اور یورپ میں سامنے آ رہے ہیں جہاں انھیں بھاری قیمت کے عوض فروخت کے لیے پیش کیا جاتا ہے۔

اقوامِ متحدہ کے ثقافتی ادارے یونیسکو کے مطابق اس غیرقانونی تجارت کی مالیت کروڑوں ڈالر ہے۔

تاہم اب ایک تخلیقی طریقہ سامنے آ رہا ہے جس کے تحت ماہرینِ آثارِ قدیمہ ان نوادرات کا سراغ لگانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

شامی حکومت کے دائرۂ اختیار سے باہر علاقوں میں ماہرین بعض نوادارت پر ایک بےرنگ مائع لگا رہے ہیں جس سے ان کا سراغ لگایا جا سکے گا۔

یہ محلول نظر نہیں آتا لیکن اسے بالائے بنفشی شعاعوں کی مدد سے دیکھا جا سکتا ہے۔

یہ ٹیکنالوجی ایک برطانوی کمپنی سمارٹ واٹر نے تیار کی ہے اور اسے ریڈنگ یونیورسٹی اور امریکہ کی شانی سٹیٹ یونیورسٹی کے سائنس دانوں نے وضع کیا ہے۔

رومی پچی کاری، بازنطینی ظروف اور قدیم مجسموں پر اس محلول کا چھڑکاؤ کیا جا رہا ہے تاکہ دہشت گرد اور مجرم گروہ انھیں بیچ نہ سکیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ SMARTWATER TECHNOLOGY
Image caption یہ محلول ویسے نظر نہیں آتا لیکن اسے بالائے بنفشی شعاعوں کی مدد سے دیکھا جا سکتا ہے

امید ہے کہ اس سے نوادارت فروخت کرنے والوں اور سمگلروں دونوں کی حوصلہ شکنی ہو گی کیوں کہ اس طرح ہر نمونے پر ایک منفرد نشان لگا ہوتا ہے جس کا سراغ لگایا جا سکتا ہے۔

اس منصوبے کے نگران مشہور شامی ماہرِ آثارِ قدیمہ پروفیسر عمرو الاعظم ہیں۔ انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ سمارٹ واٹر کے محلول کا ظروف اور دوسرے قدیم نوادرات پر کوئی مضر اثر نہیں پڑتا۔ یہ محلول جنوری میں ترکی پہنچایا گیا تھا جس کے بعد اسے گذشتہ ماہ شام منتقل کیا گیا۔

انھوں نے کہا: 'شامی ورثہ چاہے جہاں بھی ہو، خطرے میں ہے۔ یہ ایک ایسی چیز ہے جو ہمیں آپس میں جوڑے رکھتی ہے۔'

اب بہت دیر ہو چکی؟

شام میں جاری چھ سالہ خانہ جنگی کے دوران شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ پہلے ہی سمگلروں اور جرائم پیشہ گروہوں کے ساتھ مل کر بہت سا ورثہ لوٹ چکی ہے۔

یونیسکو کے مطابق اسلحے اور انسانوں کی سمگلنگ کے علاوہ مشرقِ وسطیٰ سے نوادرات کی سمگلنگ کا شمار اس وقت دنیا میں جاری سب سے بڑے غیر قانونی دھندوں میں ہوتا ہے۔

اس وقت ایک بڑی لیکن نامعلوم تعداد میں نوادرات امریکہ اور یورپ کے نیلام گھروں میں پہنچ چکے ہیں، جہاں سے انھیں نجی شائقین کو فروخت کیا جاتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP/GETTY IMAGES
Image caption نینوا میں دولتِ اسلامیہ نے قدیم ورثے کی بڑے پیمانے پر لوٹ کھسوٹ کی تھی

عراق میں بھی یہی صورتِ حال ہے، تاہم فی الحال یہ منصوبہ وہاں شروع نہیں کیا گیا۔

دولتِ اسلامیہ نے نینوا کے آثار سے ہر قیمتی چیز اٹھا لی تھی اور ہر اس چیز کو توڑ دیا تھا جسے وہ ساتھ نہیں جا سکتے تھے۔

تاہم پروفیسر اعظم کو اب بھی امید ہے کہ اس منصوبے سے سمگلروں اور آرٹ ڈیلروں کی حوصلہ شکنی ہو گی اور مجرموں تک پہنچا جا سکے گا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں