شام میں سکول پر حملہ، درجنوں افراد ہلاک

رقہ تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption دولتِ اسلامیہ کو رقہ سے نکالنے کی جنگ میں ہزاروں افراد بےگھر ہو چکے ہیں

شام سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق شام میں شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کے زیرِ قبضہ شہر رقہ کے مغرب میں واقع ایک گاؤں کے سکول پر فضائی حملے میں کم از کم 33 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

شام میں انسانی حقوق کے نگران ادارے سیریئن آبزرویٹری نے اطلاع دی ہے کہ المنصورہ گاؤں میں بےگھر لوگوں نے پناہ لے رکھی تھی اور وہاں پیر کی رات کو حملہ ہوا۔

’رقہ میں خاموش قتل عام‘ نامی گروپ کا کہنا ہے کہ 50 خاندانوں کے بارے میں کچھ پتہ نہیں چل رہا کہ وہ کہاں گئے۔

دونوں اداروں کا خِیال ہے کہ یہ حملہ امریکہ یا اس کے اتحادیوں کے جنگی طیاروں نے کیا۔

اتحاد نے فوری طور پر اس پر ردِ عمل ظاہر نہیں کیا، تاہم اس نے کہا ہے کہ پیر کو رقہ کے قریب 19 حملے کیے گئے ہیں، جن میں تین میں دولتِ اسلامیہ کا 'ہیڈکوارٹر' تباہ کر دیا گیا۔

اتحاد شامی کردوں اور عرب جنگجوؤں کی مدد کے لیے یہ حملے کر رہا ہے جو رقہ کو دولتِ اسلامیہ کے قبضے سے چھڑانا چاہتے ہیں۔ رقہ اس وقت عملی طور پر دولتِ اسلامیہ کی 'خلافت' کا دارالحکومت ہے۔

برطانیہ میں قائم سیریئن آبزرویٹری نے کہا ہے کہ اس کے ایک کارکن نے المنصورہ کے سکول کے ملبے سے 33 لاشوں کو نکالے جاتے ہوئے دیکھا ہے۔ یہ گاؤں رقہ سے 26 کلومیٹر دور واقع ہے۔

اس نے مزید کہا کہ دو لوگ زندہ نکل آئے جس کے بعد دولتِ اسلامیہ کے جنگجو وہاں آ گئے اور موقعے پر موجود لوگوں سے کہا کہ وہ وہاں سے چلے جائیں۔

گاؤں کے لوگوں نے سیریئن آبزیرویٹری کو بتایا کہ اس گاؤں میں حمص اور حلب سے بےگھر ہونے والے پناہ گزین مقیم تھے۔

'رقہ میں خاموش قتلِ عام ہو رہا ہے' نامی گروپ نے خبر دی کہ اس حملے میں سکول مکمل طور پر تباہ ہو گیا اور وہاں ٹھہرنے والے 50 خاندانوں کے بارے میں بدھ تک کوئی پتہ نہیں تھا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں