شامی باغیوں مشرقی دمشق پر دو دن کے بعد دوبارہ حملہ

شام تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption حکومت کے جنگی جہازوں نے پیر کے روز باغیوں کے علاقے پر شدید بمباری کی تھی

شامی باغی اور جہادیوں نے مشرقی دمشق پر دو دن قبل کیے جانے والے حملے کی مزاحمت کے بعد ایک بار پھر حملہ کر دیا ہے۔

باغیوں کے ایک اہلکار نے کہا ہے کہ انھوں نے جوبار کے علاقے پر اتوار کو قبضہ کر لیا تھا لیکن دو دن کی سخت جنگ کے بعد ان سے علاقہ چھن گیا تھا جسے آج انھوں نے دوبارہ حاصل کر لیا ہے۔

شام: باغیوں کے حملے کے بعد دمشق میں شدید لڑائی جاری

دمشق میں دو بم دھماکوں میں کم از کم ’40 عراقی ہلاک‘

البتہ شام کے سرکاری خبر رساں ادارے کے مطابق باغیوں کے حملے کو ناکام بنا دیا گیا ہے۔

پیر کے روز جنگی جہازوں نے باغیوں کے زیر انتظام علاقوں پر شدید بمباری کی اور سیرین آبزیرویٹری فار ہیومن رائٹس کے مطابق گزشتہ دو دنوں سے جاری لڑائی میں اب تک 38 حکومت کے اتحادی جنگجو جبکہ 34 باغی اور جہادی ہلاک ہو چکے ہیں۔

جہادیوں کے ایک گروہ فیلاق الرحمان نے ٹوئٹر پر اعلان کیا کہ لڑائی کا دوسرا مرحلہ شروع ہو چکا ہے۔

'اللہ کا شکر ہے کہ وہ تمام علاقے جہاں سرکاری فوج پیش قدمی کر رہی تھی وہ ان سے لے لیے گئے ہیں اور ساتھ ساتھ نئے علاقوں پر بھی ہم نے قبضہ کر لیا ہے جبکہ دشمن کے دستے پسپا ہو گئے ہیں۔'

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption جہادیوں کے ایک گروہ فیلاق الرحمان نے اعلان کیا کہ لڑائی کا دوسرا مرحلہ شروع ہو چکا ہے

ایک اور جہادی گروہ احرار الشمس نے کئی گھنٹوں کے بعد اعلان کیا کہ ان کے جنگجوؤں نے ایک کپڑا بنانے کی فیکڑی پر قبضہ کر لیا ہے۔ انھوں نے ایک ویڈیو بھی جاری کی ہے جس میں ان کے جنگجو شامی صدر بشار الاسد کی تصویروں کو قدموں تلے روند رہے ہیں۔

دوسری جانب اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی برائے شام سٹیفن ڈی مستورا نے کہا ہے کہ اس جنگ میں شامل تمام گروہوں نے جینیوا میں جمعرات سے شروع ہونے والے مذاکرات کے نئے دور میں شمولیت کی رضامندی کا اظہار کیا ہے تاکہ اس جنگ کو ختم کرنے کا سیاسی حل ڈھونڈا جا سکے۔

حکومت اور باغیوں نے پچھلے سال دسمبر میں ملک بھر میں جنگ بند کرنے پر رضامندی ظاہر کی تھی لیکن دونوں ایک دوسرے پر وعدہ خلافی کا الزام لگاتے رہے ہیں۔ احرار الشمس اور شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ اس معاہدے میں شامل نہیں ہیں۔

انسانی حقوق کے کارکنان کا کہنا ہے کہ چھ سال سے جاری جنگ میں کم از کم 320000 افراد اب تک ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ ایک کروڑ دس لاکھ لوگوں بے گھر ہو چکے ہیں۔

اسی بارے میں