ٹائپنگ کی معمولی غلطی نے زندگی تباہ کر دی

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption نائیجل لانگ نے پولیس کے خلاف نسی پرستی کا مقدمہ بھی دائر کیا تھا

جب نائیجل لینگ کو بچوں کی فحش تصاویر شئیر کرنے کے شبہے پر غلطی سے گرفتار کیا گیا تو وہ کہتے ہیں کہ ان کی زندگی بکھر کے رہ گئی۔ یہ سب پولیس کی جانب سے ٹائپنگ کی ایک غلطی کی وجہ سے ہوا۔

’جب مجھے گرفتار کیا گیا تو میں خوفزدہ تھا کہ نہ جانے اب میرے ساتھ کیا ہو‘۔

’میرے خاندان کا کیا بنے گا؟ کیا انھیں بھی نشانہ بنایا جائے گا؟ کیا میری والدہ کے مکان کو بھی خطرہ ہوگا؟ کیا اب میرے خاندان کو گالم گلوچ کا سامنا کرنا پڑے گا اور گلی میں ان پر حملہ کیا جائے گا؟‘

بی بی سی کے وکٹوریہ ڈربی شائر پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے نائیجل لینگ ان سوالات کا ذکر کر رہے تھے جو جولائی سنہ 2011 کی ایک صبح ان کے ذہن میں اس وقت گردش کررہے تھے جب انھیں گرفتار کیا گیا۔

اس وقت ان کی عمر چوالیس برس تھی اور وہ ایک منشیات سے بحالی کے ایک پروگرام میں کام کررہے تھا جس کا مقصد نشے میں مبتلا نوجوانوں کی مدد کرنا ہے۔

لیکن جب پولیس ان کے گھر میں تلاشی لینے اور انھیں بچوں کی فحش تصاویر شئیر کرنے کے الزام میں گرفتار کرنے کے لیے گئی تو ان کی زندگی بدل کے رہ گئی۔

ان کی ساکھ برباد ہوگئی، انھیں ملازمت سے ہاتھ دھونا پڑے اور وہ ذہنی امراض کا شکار ہوگئے۔ لیکن اس وقت نائیجل لینگ کو یہ معلوم نہیں تھا کہ یہ سب ٹائپینگ کی ایک معمولی غلطی کی وجہ سے ہوا ہے۔

مئی 2011 میں ساوتھ یارک شائیر پولیس کے پاس ایک ایسے کمپیوٹر آئی پی ایڈریس کی معلومات آئیں جن سے ایک ماہ پہلے بچوں کی سو سے زیادہ فحش تصاویر شئیر کی گئیں تھیں۔

یہ آئی پی ایڈریس نائیجل کی ساتھی استعمال کررہی تھیں لیکن اس ایڈریس میں غلطی سے ایک اضافی نمبر ٹائپ ہوجانے سے نائیجل کی گرفتاری عمل میں آئی۔

نائیجل کا کہنا ہے کہ وہ اس دوران خود کو تسلی دیتے رہے کہ انھوں نے کچھ غلط نہیں کیا اور یہ کہ پولیس کو بالاآخر حقیقت کا علم ہو ہی جائے گا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption پولیس نے ٹائیپک کی معمولی سے غلطی پر نائیجل لانگ کو گرفتار کیا

اس دوران ان کے خاندان پر بہت مشکل وقت رہا۔ نائیجل نے بتایا کہ ان کا بیٹا یہ سمجھنے سے قاصر تھا کہ وہ کہاں غائب ہوگئے ہیں۔ وہ مسلسل روتا رہا۔

تین ہفتے بعد پولیس نے نائیجل کا کمپیوٹر انھیں لوٹا دیا اورانھیں بے گناہ قرار دیا۔ لیکن ان واقعات نے نفسیاتی طور پر ان پر گہرا اثر ڈالا۔

"میرے ساتھ جو ہوا ان کے بعد میں اس قابل نہیں تھا کہ کام پر جاؤں۔ میرا تو کام ہی نوجوانوں کی مدد کرنا تھا"۔

گرفتاری کے اٹھارہ ماہ بعد نائیجل نے اس سوال کا جواب تلاش کرنا شروع کیا کہ پولیس نے ان کے گھر پر چھاپہ کیوں مارا اور انھیں گرفتار کیوں کیا۔ اس مقصد کے لیے انھوں نے ساوتھ یارک شائر پولیس کے خلاف نسل پرستی کی بنیاد پر شکایت درج کروائی۔

نائیجل کو یقین تھا کہ انھیں غیر منصافانہ طور پر نشانہ بنایا گیا ہے اور ان کی ساتھی چونکہ سفید فام ہیں اس لیے ان سے پوچھ گچھ نہیں کی گئی۔

اس شکایت کو مسترد کردیا گیا۔ بعد میں نائیجل کے وکیل کو یہ پتہ چلا کہ یہ سب ایک غلط کمپیوٹر آئی پی ایڈریس کی وجہ سے ہوا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption پولیس کو ساٹھ ہزآر پاونڈ معاوضے میں ادا کرنے پڑے

نائیجل کہتے ہیں کہ یہ سب معلوم کرنے کے لیے انھیں وکیل کو پیسے ادا کرنے پڑے جبکہ تکلیف کی بات یہ تھی کہ یہ کام پولیس کا تھا۔

"اس سے پتہ چلتا ہے کہ انھیں میری زندگی کی کوئی پرواہ نہیں تھی۔ بلکہ انھیں عام آدمیوں کی زندگیوں کی کوئی پرواہ نہیں ہے"۔ نائیجل نے بتایا۔

بعد میں پولیس نے اس معاملے پر نائیجل سے تحریری معافی مانگی۔

نائیجل نے تحریری معافی موصول ہونے کے بعد پولیس کے خلاف معاوضے کی ادائیگی کا کیس دائر کیا۔ اور چھ برس کی قانونی لڑائی کے بعد پولیس نے انھیں ساٹھ ہزار پاونڈ کی رقم ادا کی۔

نائیجل کہتے ہیں ’یہ رقم کافی نہیں لیکن چھ سال کی لڑائی کے بعد آپ تھک جاتے ہیں۔ مجھے اس واقعے کے بعد ڈھائی برس تنخواہ نہیں ملی۔ اور اس کے بعد میں ملازمت بھی نہیں کرپایا۔‘

اس برس پولیس نے ایک بیان میں اس واقعے پر افسوس کا اظہار کیا اور کہا غلطی کو تسلیم کرکے نائیجل کو معاوضہ ادا کردیا گیا ہے۔

تاہم نائیجل نے اب اس معاملے پر میڈیا میں کھل کر بات کرنا شروع کی ہے۔

’میں دنیا کوبتانا چاہتا ہوں کہ میں بچوں کو جنسی طور پر استعمال کرنے والا شخص نہیں ہوں۔ میں ایک عام محنتی آدمی تھا لیکن ذہنی طور پر بیمار ہوچکا ہوں۔ میں نہیں جانتا کہ مستقبل میں میرے ساتھ کیا ہوگا۔‘

اسی بارے میں