دہشت گردی کا شبہہ: جرمنی کا اپنے ہی دو شہریوں کو ملک بدر کرنے کا اعلان

جرمنی پولیس تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption جرمنی کو 19 دسمبر کو برلن کرسمس مارکٹ میں ہونے والے حملے کے بعد ہائی الرٹ پر رکھا گیا ہے

جرمنی نے کہا ہے کہ وہ اپنے دو شہریوں کو ملک بدر کر ے گا اور یہ جرمنی کی تاریخ میں پہلا واقعہ ہے۔

یہ دونوں شہری جرمنی میں پیدا ہوئے تھے لیکن ان کے والدین غیر ملکی ہیں۔ ان میں سے ایک کا تعلق الجیریا سے ہے جبکہ دوسرے کا نائجیریا سے۔

٭ جرمنی: دہشت گردی کے شبہے میں دو افراد گرفتار

٭ ’اسلامی شدت پسندوں کی دہشتگردی سب سے بڑا چیلنج ہے‘

خیال رہے کہ 27 سالہ الجیریا نژاد اور 22 سالہ نائجیریا نژاد افراد کو گذشتہ ماہ دہشت گرد حملے کی منصوبہ بندی کے شبہے میں گرفتار کیا گیا تھا۔

جرمنی کے مرکزی شہر گوٹنجن میں چھاپے کے دوران ان کے گھر سے ایک بندوق اور شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ کا جھنڈا برآمد کیا گیا تھا۔

لیکن ان افراد پر ابھی تک کوئی فرد جرم عائد نہیں کی گئی ہے۔

ان کے خلاف مجرمانہ مقدمات ہٹا لیے گئے کیونکہ پولیس یہ ثابت کرنے سے قاصر رہی کہ دونوں مشتبہ افراد کسی حملے کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ یہ دونوں افراد خطرناک ہیں۔

لوور سیکسونی کے وزیر داخلہ بورس پسٹوریئس نے کہا کہ ملک بدری جلد از جلد یقینی طور پر اپریل کے وسط تک کر دی جائے گی۔

انھوں نے بتایا کہ الجیریا اور نائجیریا کے ساتھ اس بارے میں بات چیت جاری ہے اور ان دونوں افراد پر جرمنی میں داخل ہونے پر تا حیات پابندی ہوگی۔

ابھی یہ واضح نہیں کہ آیا یہ دونوں اس فیصلے کے خلاف اپیل کریں گے یا نہیں۔ جرمنی میں شہریت کا تعین کسی شخص کی اپنی جائے پیدائش اور اس کے والدین میں سے ایک یا دونوں کی شہریت کے تعلق سے ہوتا ہے۔

جرمنی کو 19 دسمبر کو برلن کرسمس مارکٹ میں ہونے والے حملے کے بعد ہائی الرٹ پر رکھا گیا ہے۔ اس حملے میں ایک درجن افراد ہلاک جبکہ متعدد درجن زخمی ہوئے تھے۔

اسی بارے میں