قحط زدہ زندگی کے روپ، تصاویر میں

تصویر کے کاپی رائٹ Mustafa Saeed

میگنم کے ڈاکومنٹری فوٹوگرافر مصطفیٰ سعید نے خیراتی ادارے 'سیو دا چلڈرن' کے ساتھ صومالیہ کے علاقے خود ساختہ جمہوریہ صومالی لینڈ کے طول و عرض کا سفر کیا۔ آٹھ روزہ اس دورے میں انھوں نے خشک سالی کا شکار گلہ بان خاندانوں سے ملاقات کی جہاں ہزاروں بچوں میں غذائیت کی کمی ہے۔

ان گلہ بان خاندانوں کا ذریعہ معاش ختم ہو چکا ہے اور ان بچوں کے والدین بچے کھچے مویشیوں کو بیچنے کے لیے سفر پر گھر سے باہر نکلے ہوئے ہیں۔

برطانیہ کی آفات اور ایمرجنسی کی کمیٹی کے مطابق پورے صومالیہ (بشمول صومالی لینڈ)، کینیا، ایتھوپیا اور جنوبی سوڈان میں آباد ڈیڑھ کروڑ سے زیادہ افراد کو خوراک، پانی اور دواؤں کی ضرورت ہے۔

حالی نور نے اپنے پانچ بچوں اور بچے کھچے مویشیوں کے ساتھ قحط زدہ مشرقی صومالی لینڈ چھوڑ دیا اور اب وہ ڈیلا کے پاس مغربی علاقے میں آباد ہیں تصویر کے کاپی رائٹ Mustafa Saeed

سعید کا کہنا ہے کہ 'یہ گلبہ بان خاندان افریقہ کے تمام قحط زدہ علاقوں کی نمائندگی کرتے ہیں۔'

'ان کے مویشی ان کے بینک اکاؤنٹ ہیں۔ یہ وہ کرنسیاں ہیں جن پر ان کی زندگي منحصر ہے اور ان کی آنکھوں کے سامنے ان کے مویشی مر رہے ہیں۔

'وہ ابھی تک امداد کے منتظر ہیں اور مجھے خوراک، پانی اور سرچھپانے کی جگہ کی اپنی ضرورت کے بارے میں بتاتے ہیں۔'

انھوں نے مزید کہا: ان کے حالات جذباتی طور پر مفلوج کر دینے والے ہیں کہ اتنے سارے افراد کو ہماری امداد کی ضرورت ہے۔

'مجھے ان تصاویر کو لینے میں جس جذباتی کرب سے گزرنا پڑا ہے وہ ان قحط زدہ خاندانوں کی مشکلات کے سامنے کچھ نہیں۔'

شکری

شکری اپنے تین میں سے دو بچوں کے ساتھ نظر آ رہی ہیں تصویر کے کاپی رائٹ Mustafa Saeed

اپنے زیادہ تر مویشیوں کی موت کے بعد شکری اپنے تین میں سے دو بچوں کے ساتھ ہجرت کرکے براؤ چلی آئیں اور مقامی ایئرپورٹ کے علاقے میں آ کر آباد ہو گئیں تاکہ ان کی بچی کھچی بھیڑوں کو چراگاہ مل سکے۔

وہ کہتی ہیں: 'ہم یہاں اپنے مویشیوں کے چارہے کے لیے آئے تھے لیکن یہاں گھاس ختم ہو چکی تھی اور ہمارے مویشی ہماری آنکھوں کے سامنے دم توڑ گئے۔ اب ہمیں یہیں رہنا ہے۔ ہمارے پاس کچھ نہیں بچا ہے۔'

فردوس

اپنے تمام مویشیوں کے مر جانے کے بعد چھ بچوں کی مان فردوس اینابو شہر کی اس رہائش میں چلی آئیں تصویر کے کاپی رائٹ Mustafa Saeed

بہت سے گلہ بان اپنی خانہ بدوش زندگی چھوڑ کر اینابو جیسے چھوٹے چھوٹے شہری مراکز میں آباد ہو رہے ہیں۔ وہ عارضی پناگاہوں میں مقامی اور بین الاقوامی برادریوں سے امداد کی امیڈ میں آ رہے ہیں۔

فردوس کہتی ہیں: 'جب سارے مویشی مر گئے تو ہمارے پاس کھانے کو کچھ نہیں بچا، نہ پانی تھا نہ مناسب پناہ گاہ۔ ہمارے پاس کچھ نہیں۔ ہم یہاں اس لیے چلے آئے کہ ہمارے بچوں کو کھانے کو کچھ مل سکے۔'

سعدو

سعدو قحط زدہ مشرقی علاقے سے سفر کرکے مغربی علاقے میں دیلا شہر کے پاس پہنچیں جہاں وہ اپنے چار بچوں کے ساتھ رہتی ہیں۔ ان کے ایک سو مویشی مر چکے ہیں تصویر کے کاپی رائٹ Mustafa Saeed

سعدو قحط زدہ مشرقی علاقے سے سفر کرکے مغربی علاقے میں دیلا شہر کے پاس پہنچیں جہاں وہ اپنے چار بچوں کے ساتھ رہتی ہیں۔ ان کے ایک سو مویشی مر چکے ہیں۔ ان کے زیادہ تر مویشی یہاں آ کر مرے ہیں اور باقی بچی 50 بھیڑیں اور بکریاں اتنی کمزور ہیں کہ دودھ نہیں دے سکتیں کہ انھیں بازار لے جاکر بیچا جا سکے۔

سعدو اور ان کے چار بچوں کو ایک وقت کا کھانا مل پاتا ہے۔ ایک حالیہ جانچ میں ان کی سب سے چھوٹی بیٹی میں غذائیت کی شدید کمی کا پتہ چلا ہے۔

وہ کہتی ہیں: 'ہماری سب سے بڑی ضرورت ابھی خوراک ہے۔ ہمیں کھانے کی ضرورت ہے تاکہ ہمارے بچے مضبوط ہو سکیں۔'

خضرہ محمد

خضرہ محمد اپنے دو جڑواں بیٹوں کے ساتھ یوگوری شہر کے باہر ایک عارضی آبادی میں رہتی ہیں تصویر کے کاپی رائٹ Mustafa Saeed

خضرہ محمد کہتی ہیں: 'ہم گلبہ بان تھے کہ قحط کا دور شروع ہو گیا۔ ہمارے تقریبا تمام مویشی مر گئے۔ تھوڑے جو بچ گئے ان کے ساتھ ہم یہاں چلے آئے۔

'جو کوئی بھی یہاں ہے اور جس نے اپنا مویشی کھو دیا ہے انھوں نے بہت تکالیف اٹھائی ہیں۔ ہمارے پاس کوئی گھر نہیں ہے۔ صرف یہ خیمے ہیں۔ بعض مقامی دکانداروں نے ہمیں کھانا دیا ہے اور حالیہ دنوں بعض تنظیمیں ہماری امداد کر رہی ہیں۔

دیقہ

ماں دیقہ اپنے بچوں کے ساتھ صومالی لینڈ کے دیہی علاقے قریظ سے باہر ایک پیڑ کی چھاؤں میں تصویر کے کاپی رائٹ Mustafa Saeed

دیقہ کا کہنا ہے کہ ان کے تقریباً 100 مویشی مر چکے ہیں جو باقی بچے ہیں وہ اتنے کمزور ہیں کہ ان کی کوئی قیمت نہیں۔

قحط کے سبب ان کا خاندان مشکلات کا شکار ہے۔ انھوں نے کہا: 'ہمیں پینے کا صاف پانی بھی میسر نہیں۔ ایک ماں کی حیثیت سے میرے پاس اتنا بھی کھانا موجود نہیں کہ اپنے بچوں کا پیٹ بھر سکوں۔'

اندودیق

اندودیق اپنی نواسی کو گود میں لیے بیٹھی ہین۔ ان کے شوہر نور کی بینائي جاتی رہی ہے اور ان کی بیٹی ہدان ولادت کے دوران بیمار پڑ گئی ہیں تصویر کے کاپی رائٹ Mustafa Saeed

اپنے بہت سارے مویشی کھو دینے کے بعد اندودیق اور ان کے کنبے نے قریظ شہر میں پناہ لی ہے اور گلہ بانی چھوڑ دی ہے۔ انھیں شہر کے لوگوں نے یہ جگہ رہنے کے لیے دی ہے۔

وہ کہتی ہیں: 'ہماری فوری ضرورت کھانا، پانی اور سرچھپانے کی مناسب جگہ ہے۔

انھیں سیو دا چلڈرن کی جانب سے پیسے ملتے ہیں جس سے وہ اپنے بچے کے لیے خوراک، دودھ اور دوائیں خریدتی ہیں۔

یہاں اندودیق اپنی نواسی کو گود میں لیے بیٹھی ہیں۔ ان کے شوہر نور کی بینائي جاتی رہی ہے اور ان کی بیٹی ہدان ولادت کے دوران بیمار پڑ گئی ہیں

ہدان

پانچ بچوں کی والدہ ہدان نے اپنے دو سالہ بچے ہارون کو سنبھال رکھا ہے تصویر کے کاپی رائٹ Mustafa Saeed

پانچ بچوں کی والدہ ہدان نے قریظ میں اپنے دو سالہ بچے ہارون کو سنبھال رکھا ہے۔ ہارون بیماریوں کے سبب بچپن میں ہی نابینا ہو گیا اور اب اس میں غذائیت کی شدید کمی ہے۔ سب سے نزدیک جو ہسپتال ہے وہ بھی کئی گھنٹے کی مسافت پر ہے۔

ہدان کے آدھے سے زیادہ مویشی مر چکے ہیں اور اسے اپنے بچوں کے لیے کھانا حاصل کرنے اور ہارون کے علاج کے لیے دشواریوں کا سامنا ہے۔

اوباہ

فادمو تین بچوں کی والدہ ہیں اور یہاں انھیں اپنے ایک سال کے بیٹے کلمیہ کے ساتھ دیکھا جا سکتا ہے تصویر کے کاپی رائٹ Mustafa Saeed

ابتدا میں جو کھانے تقیسم کیے گئے تھے ان میں سے اوباہ کو بھی کھانے ملے تھے لیکن انھیں مناسب رہائش اور صاف پانی کے لیے ابھی بھی مشکلات کا سامنا ہے۔

وہ کہتی ہیں: 'ہماری تمام بکریاں اور زیادہ تر اونٹ مر گئے۔ میرے شوہر بچے ہوئے اونٹ کے ساتھ بازار گئے ہیں۔ جب ہمارے مویشی مرنے لگتے ہیں تو ہماری زندگی دشوار ہو جاتی ہے اس لیے ہم یہاں آئے ہیں تاکہ ہمیں بھی امدادی تنظیمیں مستحقین میں شمار کر لیں۔'

فدومو

یہاں فدومو کو اپنے ایک سالہ بیٹے کلمیہ کے ساتھ دیکھا جا سکتا ہے تصویر کے کاپی رائٹ Mustafa Saeed

طلاق کے بعد فدومو اپنے تین بچوں کے ساتھ سفر کرکے یوگوری کے باہر ایک عارضی آبادی میں آئیں۔ ان کے ایک سالہ بچے کلمیہ میں غذائیت کی کمی تشخیص ہوئی ہے اور انھیں نے حال ہی میں سیو دا چلڈرن کی جانب سے نقد رقم کی امداد پانے والے افراد میں شامل کر لیا گیا ہے۔

ان کا کہنا ہے: 'ہمارے پاس نہ تو مویشی ہے نہ ہی رہنے کی کوئی جگہ۔ مجھے اپنے بچوں کے لیے امداد کی ضرورت ہے۔'

تمام تصاویر بشکریہ مصطفی سعید۔

متعلقہ عنوانات