پرواز پر بچوں کو بہلانے کے پانچ طریقے

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption پروازوں پر چھوٹے بچوں کو بہلانے کے لیے برقی آلات انتہائی موثر ہوتے ہیں

امریکہ اور برطانیہ جانے والی کچھ پروازوں کیبن میں برقی آلات لے جانے پر پابندی سے کاروباری شخصیات پریشانی کا اظہار کر رہے ہیں۔ مگر ایک اور گروہ کو بھی شاید اتنی ہی پریشانی کا سامنا ہے، اور وہ ہیں چھوٹے بچوں والے والدین!

ٹوئٹر پر ایک شخص نے صدر ٹرمپ کو پیغام میں کہا ’یہ بے تکا اقدام ہے۔ میرا بچہ آئی پیڈ کے بغیر دو میل نہیں جا سکتا۔‘

والدین کی پریشانی حیران کن نہیں۔ چھوٹی عمر کے مسافرین کی اکثریت نے شاید کبھی کسی سکرین کے بغیر جہاز پر سفر ہی نہیں کیا ہوگا۔

مندرجہ ذیل پانچ ایسی تجاویز ہیں جو سکرینوں اور لیپ ٹاپوں کے دور سے پہلے مسافر والدین کے خفیہ ہتھیار ہوا کرتے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption پرواز پر لیپ ٹاپ کی پابندی سے والدین بھی پریشان ہیں

کلرنگ (رنگ کروانا)

ٹھیل ہے اس میں کوئی ناچتا گاتا بھالو نہیں، مگر اپنے ڈیزائن کے لیے صحیح رنگ چننا بچوں کے لیے ایک وقت طلب مشق ہوتی ہے۔

مطالعہ کرنا

شاید ایسے بھی بچے ہوں جنھوں نے کبھی کوئی اصل کتاب اٹھائی بھی نہ ہو مگر ہم آپ کو یقین دلاتے ہیں کہ حقیقی کتابیں آج بھی موجود ہوتی ہیں اور دکان سے خریدی جا سکتی ہیں۔

پہیلیاں

جگ سہ پزل ہو، ریاضی کا مسئلہ، یا لفظوں کی تلاش، پہیلیاں بچوں کے آنسو اور ڈھنڈوروں کو روکنے کا ایک قدیم طریقہ ہے۔

منی بورڈ گیمز

جن والدین کے پاس ایک سے زیادہ چھوٹا بچہ ہو، ان کے لیے سانپ اور سیڑھی یا کنیکٹ فور جیسی روایتی اور مانی ہوئی گیمز بھی ایک بہترین آلہِ سکون ہو سکتی ہیں۔ بس یہ خیال رکھیں کہ مقابلہ زیادہ سخت نہ ہو جائے۔

اور کم از کم ایک سکرین تو ہے!

طویل پروازوں پر ہر بچے کی خواہشات کے مطابق محتاط طریقے سے چنا ہوا پروگرام موجود ہونے سے پہلے طیارے میں ایک بڑی سکرین پر سب کو ایک ہی فلم دیکھنی پڑتی تھی۔

مگر اب زیادہ طویل پروازوں پر ہر سیٹ پر کم از کم ایک سکرین ضرور ہوتی ہے تو بچوں کی توجہ کے لیے کچھ فلمیں تو ابھی بھی مسیر ہیں۔

اسی بارے میں