لندن میں دہشت گردی، پولیس اہلکار اور خاتون راہگیر ہلاک

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں
لندن میں دہشت گردی کی ایک واردات میں ایک خاتون ہلاک اور متعدد افراد زخمی ہو گئے ہیں

لندن میں ہاؤس آف پارلیمنٹ کے قریب ’دہشتگردی‘ کے ایک واقعے میں ایک خاتون ہلاک اور متعدد افراد زخمی ہو گئے ہیں۔

لندن میں پارلیمان کے باہر ویسٹ منسٹر پل پر ایک حملہ اور نے راہگیروں پر گاڑی چڑھا دی اور لوگوں کو زخمی کرنے کے بعد حملہ آور پیلس آف ویسٹ منٹسر کے دروازوں کی طرف بھاگا۔ اسی دوران اس نے وہاں موجود ایک پولیس اہلکار کو چاقو مار کے زخمی کر دیا۔

لندن میں دہشت گردی کے واقعہ کی تصاویر

عینی شاہدین کے مطابق جیسے ہی حملہ آور چاقو لہراتا ہوا دوسرے پولیس افسر کی جانب بڑھا، موقع پر موجود پولیس نے اسے گولی مار دی۔ بعد ازاں اسے ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔

اس واقعے کی ابتدائی تصدیق برطانوی پارلیمان کے ایوان زیریں دارالعوام کے قائد ایوان ڈیوڈ لڈنگٹن نے کی تھی۔ انھوں نے ارکان پارلیمان کو بتایا کہ حملہ آور کو پولیس نے گولی مار دی ہے۔

پولیس نے کہا کہ وہ اس واقع کو ایک دہشت گردی کی ورادات کے طور پر لے رہے ہیں جب تک کے انھیں اس کے متضاد کوئی مصدقہ اطلاع نہیں مل جاتی۔

پارلیمنٹ ہاؤس کے اندر موجود سٹاف اور دیگر لوگوں کو ہدایت کی گئی تھی کہ وہ اپنے دفاتر سے باہر نہ نکلیں۔

قبل ازیں سیاست دانوں اور اخبارنویسوں نے ٹویٹ کیا تھا کہ انھوں نے پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر گولی چلائے جانے کی آواز سنیں ہیں۔ چند عینی شاہدین کا کہنا تھا کہ انھوں نے لوگوں کو ابتدائی طبی امداد حاصل کرتے ہوئے دیکھا ہے۔

ادھر وزیراعظم تھریسہ مے کے ترجمان کا کہنا ہے کہ وہ اب سے کچھ دیر بعد کابینہ کے ہنگامی اجلاس کی صدارت کریں گی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Carl Court
تصویر کے کاپی رائٹ DANIEL LEAL-OLIVAS
تصویر کے کاپی رائٹ Bloomberg

برطانوی وزیر اعظم کی سرکاری رہائش گاہ ٹین ڈاونگ کے ایک ترجمان وزیر اعظم کی خیرت کی تصدیق بھی کی۔

لندن کے میئر صادق خان کا کہنا ہے کہ لندن میں ہاؤس آف پارلیمانٹ کے باہر ہونے والے واقعے کو تب تک ایک دہشتگرد حملہ تصور کیا جائے گا جب تک اس کے منافی شواہد نہ مل جائیں۔

انھوں نے کہا کہ ان کی پولیس کے عبوری کمشنر سے بات ہوئی ہے اور ہنگامی تفتیش جاری ہے۔

انھوں نے متاثرہ خاندانوں کے ساتھ اظہارِ افسوس و ہمدردی بھی کیا۔

پارلیمنٹ میں اس واقع کے بعد ایک ایئر ایمبولینس (ہیلی کاپٹر) کو بھی اترتے دیکھا گیا۔

لندن کے ٹرانسپورٹ کے ادارے نے کہا ہے کہ انھوں نے پولیس کی درخواست پر ویسٹ منسٹر زیر زمین ریلوے سٹیشن کو بند کر دیا ہے۔

ایک عینی شاہد راڈوسلا سکورسکی جو ہاورڈ میں یورپی سڈیز میں سینئر فیلو ہیں انھوں نے ٹوئٹر پر ایک ویڈیو کلپ شائع کیا ہے جس میں لندن کے ویسٹ منسٹر پل پر سڑک کے درمیان لوگوں کو پڑا ہوا دیکھا جا سکتا ہے۔

ہیلی کاپٹر سے بنائی گئی وڈیو سے صاف نظر آتا ہے کہ ویسٹ منسٹر پل کے اوپر سے گزرنے والی سڑک پر تھوڑے تھوڑے فاصلے پر زخمی یا متاثرہ افراد لیٹے ہوئے ہیں جنھیں طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔

مقامی ہسپتال کے ڈاکٹر کے مطابق ویسٹ منسٹر پل ہونے والے واقعے کے نتیجے میں ایک زخمی خاتون چل بسی ہیں۔

اسی بارے میں