لندن میں دہشت گردی، حملہ آور سمیت پانچ افراد ہلاک اور 40 زخمی

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں
لندن میں دہشت گردی کی ایک واردات میں ایک خاتون ہلاک اور متعدد افراد زخمی ہو گئے ہیں

لندن میں پولیس کا کہنا ہے کہ ہاؤس آف پارلیمنٹ کے قریب ’دہشتگردی‘ کے ایک واقعے میں حملہ آور سمیت چار افراد ہلاک جبکہ 40 زخمی ہو گئے ہیں۔ عالمی رہنماؤں کی جانب سے برطانیہ سے اظہارِ یکجہتی کے لیے بیانات دیے جا رہے ہیں۔

بدھ کی شام لندن میں پارلیمان کے باہر ویسٹ منسٹر پل پر ایک حملہ آور نے وہاں موجود راہگیروں پر گاڑی چڑھا دی تھی جس کے بعد حملہ آور پیلس آف ویسٹ منسٹر کے دروازوں کی طرف بھاگا۔ اسی دوران اس نے وہاں موجود ایک پولیس اہلکار کو چاقو مار دیا۔

ہلاک ہونے والوں میں ایک پولیس اہلکار اورتین عام شہری بھی شامل ہیں جبکہ حملہ آور کو پولیس نے ہلاک کر دیا ہے۔

امریکہ، جرمنی اور فرانس جہاں گزشتہ برس دہشت گردی کے بڑے واقعات پیش آئے تھے کے سربراہان نے برطانیہ سے اظہارِ یجکہتی کیا ہے۔

فرانسیسی صدر فرانسوا اولاند نے برطانوی وزیراعظم سے اظہارِ یجکہتی کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی ہم سب کا مسئلہ ہے اور فرانس برطانوی عوام کے دکھ کو سمجھتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA

اس سے قبل فرانسیسی حکام نے تصدیق کی تھی کہ زخمی ہونے والوں میں تین فرانسیسی بچے بھی شامل ہیں۔ ملک کی وزارتِ خارجہ کا کہنا ہے کہ یہ بچے سکول ٹرپ کے ساتھ لندھ گئے ہوئے تھے۔

فرانسیسی میڈیا کا کہنا ہے کہ تین بچوں میں سے دو کی حالت تشویشناک ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے پیغام میں برطانوی سکیورٹی فورسز کے کردار کی تعریف کی ہے۔

جرمنی جہاں گذشتہ برس ایک ٹرک کے ذریعے ہونے والے خودکش حملے میں 84 افراد ہلاک ہوئے تھے کی چانسلر آنگیلا میرکل نے کہا ہے کہ ان کا ملک برطانیہ کے ساتھ عوام اور حکومت کے ساتھ دہشت گردی کے خلاف کھڑا ہے۔

ادھر پیرس کے آئفل ٹاور کی روشنیاں گرینج کے معیاری وقت کے شب گیارہ بجے متاثرین کی یاد میں بجھا دی گئیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA

کب کیا ہوا؟

عینی شاہدین کے مطابق جیسے ہی حملہ آور چاقو لہراتا ہوا دوسرے پولیس افسر کی جانب بڑھا، موقعے پر موجود پولیس نے اسے گولی مار دی۔

پولیس نے کہا کہ وہ اس واقعے کو ایک دہشت گردی کی ورادات کے طور پر لے رہے ہیں جب تک کہ انھیں اس کے متضاد کوئی مصدقہ اطلاع نہیں مل جاتی۔

سکاٹ لینڈ یارڈ نے تصدیق کی ہے کہ ہلاک شدگان میں ایک پولیس افسر اور مبینہ طور پر حملہ آور بھی شامل تھا۔ وزیراعظم ٹریزا مے کے ترجمان کا کہنا ہے کہ وہ اب سے کچھ دیر بعد کابینہ کے ہنگامی اجلاس کی صدارت کریں گی۔

اس واقعے کی ابتدائی تصدیق برطانوی پارلیمان کے ایوان زیریں دارالعوام کے قائد ایوان ڈیوڈ لڈنگٹن نے کی تھی۔ انھوں نے ارکان پارلیمان کو بتایا کہ حملہ آور کو پولیس نے گولی مار دی ہے۔

پارلیمنٹ ہاؤس کے اندر موجود سٹاف اور دیگر لوگوں کو ہدایت کی گئی تھی کہ وہ اپنے دفاتر سے باہر نہ نکلیں۔

قبل ازیں سیاست دانوں اور اخبارنویسوں نے ٹویٹ کی تھیں کہ انھوں نے پارلیمینٹ ہاؤس کے باہر گولی چلائے جانے کی آواز سنی ہیں۔ چند عینی شاہدین کا کہنا تھا کہ انھوں نے لوگوں کو ابتدائی طبی امداد حاصل کرتے ہوئے دیکھا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Carl Court

برطانوی وزیر اعظم کی سرکاری رہائش گاہ ٹین ڈاوئننگ کے ایک ترجمان نے وزیر اعظم کی خیریت کی تصدیق بھی کی۔

لندن کے میئر صادق خان کا کہنا ہے کہ لندن میں ہاؤس آف پارلیمنٹ کے باہر ہونے والے واقعے کو تب تک ایک دہشتگرد حملہ تصور کیا جائے گا جب تک اس کے منافی شواہد نہ مل جائیں۔

انھوں نے کہا کہ ان کی پولیس کے عبوری کمشنر سے بات ہوئی ہے اور ہنگامی تفتیش جاری ہے۔

انھوں نے متاثرہ خاندانوں کے ساتھ اظہارِ افسوس و ہمدردی بھی کیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption برسلز میں عوام دل کا نشان بنا کر ایک سال قبل ملک میں دہشت گردی کے حملے میں نشانہ بننے والوں کو یاد کرتے ہوئے۔

پارلیمنٹ میں اس واقع کے بعد ایک ایئر ایمبولینس (ہیلی کاپٹر) کو بھی اترتے دیکھا گیا۔

لندن کے ٹرانسپورٹ کے ادارے کےمطابق پولیس کی درخواست پر ویسٹ منسٹر زیر زمین ریلوے سٹیشن کو بند کر دیا گیا تھا تاہم بعدازاں اسے کھول دیا گیا۔

آسٹریلیا کے وزیراعظم نے لندن حملے کے بعد اپنے پیغام میں کہا ہے کہ 'یہ دنیا میں ہر جگہ پارلیمان، جمہوریت اور آزادی پر حملہ ہے۔

ولندیزی وزیراعظم مارک رٹ نے اپنے بیغام میں کہا ہے کہ 'لندن سے اندھوناک مناظر دیکھنے کو ملے۔ شہر کے قلب پر حملہ ہوا۔ ہمارے جذبات برطانوی عوام کے ساتھ ہیں۔

روس کی وزارتِ خارجہ سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ 'ہم دہشت گردی کو اقسام یا گروہوں میں تقسیم نہیں کرتے، ہم اسے مکمل گناہ سمجھتے ہیں۔اس لمحے بھی ہمیشہ کی طرح ہمارے دل برطانیہ کے عوام کے ساتھ ہیں۔'

اسی بارے میں