’لندن حملہ آور کے بارے میں ایم آئی 5 کو معلوم تھا‘

تصویر کے کاپی رائٹ JACK TAYLOR
Image caption برطانیہ میں انسداد دہشت گردی کے محکمے کے سینیئر افسر نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ لندن میں ہونے والے حملے کو حوالے سے لندن اور برمنگھم میں آٹھ لوگوں کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔

برطانوی وزیراعظم ٹریزا مے کا کہنا ہے کہ گذشتہ روز لندن میں پارلیمان کے باہر ویسٹ منسٹر کے پل پر حملہ کرنے والے شخص کے بارے میں پولیس اور خفیہ اداروں کو معلوم تھا۔

ایوانِ زیریں سے خطاب میں انھوں نے بتایا کہ حملہ آور برطانیہ میں ہی پیدا ہوا تھا اور کچھ برس قبل اسے شدت پسندی کے حوالے سے تحقیقات میں شامل کیا گیا تھا۔

تاہم ان کا کہنا تھا کہ یہ حملہ آور کسی موجودہ تفتیش کا حصہ نہیں تھا۔

یاد رہے کہ گذشتہ روز ہاؤس آف پارلیمنٹ کے قریب 'دہشت گردی' کے ایک واقعے میں حملہ آور سمیت چار افراد ہلاک جبکہ 40 کے قریب زخمی ہوئے ہیں۔ زخمیوں میں سے سات افراد کی حالت نازک بتائی جا رہی ہے۔

اس حوالے سے برطانیہ میں انسداد دہشت گردی کے محکمے نے لندن اور برمنگھم میں آٹھ لوگوں کو گرفتار کر لیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Carl Court
Image caption امریکہ، جرمنی، فرانس سمیت دنیا کے بہت سے ممالک کے سربراہان نے اس واقعے کے بعد برطانیہ سے اظہارِ یکجہتی کیا ہے۔

بدھ کی شام کو لندن میں پارلیمان کے باہر ویسٹ منسٹر کے پل پر ایک حملہ آور نے وہاں موجود راہگیروں پر پہلے گاڑی چڑھا دی تھی پھر حملہ آور پیلس آف ویسٹ منسٹر کے دروازوں کی طرف بھاگا اور وہاں پر موجود ایک پولیس اہلکار کو اس نے چاقو مار کر ہلاک کر دیا۔

حملہ آور کو پولیس نے گولی مار کر ہلاک کر دیا تھا۔ کمشنر راؤلے کا کہنا تھا کہ خیال ہے کہ حملہ آور عالمی دہشت گردی سے ذہنی طور پر متاثر ہوا ہو گا۔

اس واردات کے بعد برطانوی وزیر اعظم ٹریزا مے نے کابینہ کی سلامتی سے متعلق کمیٹی کوبرا کا ہنگامی اجلاس طلب کیا جس میں ملک کے درپیش خطرات کا جائزہ لیا گیا۔

امریکہ، جرمنی، فرانس سمیت دنیا کے بہت سے ممالک کے سربراہان نے اس واقعے کے بعد برطانیہ سے اظہارِ یکجہتی کیا ہے۔

فرانسیسی صدر فرانسوا اولاند نے برطانوی وزیراعظم سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی ہم سب کا مسئلہ ہے اور فرانس برطانوی عوام کے دکھ کو سمجھتا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے پیغام میں برطانوی سکیورٹی فورسز کے کردار کی تعریف کی ہے۔

جرمنی میں گذشتہ برس ایک ٹرک کے ذریعے ہونے والے خودکش حملے میں 84 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ جرمن چانسلر آنگیلا میرکل نے کہا ہے کہ ان کا ملک برطانیہ کے ساتھ عوام اور حکومت کے ساتھ دہشت گردی کے خلاف کھڑا ہے۔

اسی بارے میں