لندن میں ویسٹ منسٹر پل پر حملہ: حقائق کیا ہیں؟

تصویر کے کاپی رائٹ NIKLAS HALLE'N

لندن میں ویسٹ منسٹر پل پر حملہ: اب تک سامنے آنے والے حقائق کیا ہیں؟

  • لندن کی میٹروپولیٹن پولیس نے بدھ کو ایوان پارلیمان کے باہر ہونے والے دہشت گردی حملے میں ملوث شخص کی خالد مسعود کے نام سے شناخت کر لی ہے۔
  • ہلاک ہونے والے 4 افراد میں ایک پولیس اہلکار، ایک 40 سالہ خاتون، ایک 50 سالہ مرد، اور حملہ آور شامل ہیں۔
  • جمعرات کو شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ نے اس حملہ کی ذمہ داری قبول کی۔ ان کا کہنا تھا کہ حملہ آور ان کا ’ایک سپاہی تھا۔‘
  • حملے میں 40 افراد زخمی ہوئے جن میں سے 29 اب بھی ہسپتال میں داخل ہیں اور سات کی حالت تشویش ناک ہے۔ متاثرین کا تعلق دس مختلف ممالک سے ہے۔ وزیراعظم مے نے بتایا کہ زخمیوں میں تین فرانسیسی، دو جنوبی کوریائی، ایک پولش، ایک چینی، ایک اطالوی، ایک امریکی، ایک جرمن، اور دو یونانی شامل ہیں۔
  • زخمیوں میں تین پولیس اہلکار بھی شامل ہیں۔
  • برطانوی وزیراعظم ٹریزا مے نے بتایا ہے کہ حملہ آور برطانیہ میں ہی پیدا ہوا تھا اور سکیورٹی ادارے اس سے واقف تھے کیونکہ کچھ برس قبل اسے شدت پسندی کے حوالے سے تحقیقات میں شامل کیا گیا تھا۔
  • حملہ آور کے بارے میں زیادہ تفصیلات جاری نہیں کی گئیں تاہم یہ بتایا گیا ہے کہ وہ درمیانی عمر کا ایک مرد تھا جو کہ ایک چاقو سے لیس تھا اور اسے پولیس نے موقعے پر ہی گولی مار دی تھی۔ حکام اس بات کی تحقیق کر رہے ہیں کہ کیا وہ اس حملے میں تنہا ہی ملوث تھا۔
  • برطانیہ میں انسداد دہشت گردی کے محکمے نے لندن اور برمنگھم میں آٹھ لوگوں کو گرفتار کر لیا ہے۔
  • مقامی وقت کے مطابق دوپہر کے دو بج کر چالیس منٹ پر پولیس کو پہلی ہنگامی کال آئی۔
  • مصدقہ اطلاعات کے مطابق ایک شخص نے ویسٹ منسٹر پل پر پارلیمنٹ کی عمارت اور بگ بن کے قریب گرے رنگ کی ہنڈائی آئی 40 کار راہگیروں پر چڑھا دی۔
  • اس کے بعد کار برطانوی پارلیمان کی باڑ سے جا ٹکرائی۔
  • اس کے بعد حملہ آور کار سے نکالا اور اس نے ایک پولیس اہلکار کو چاقو مارا۔ پولیس اہلکار کو بچانے کی ایک رکنِ پالرمیان کی کوشش ناکام رہی اور وہ ہلاک ہوگیا۔
  • اس موقعے پر ایک اور پولیس اہلکار نے حملہ آور کو گولی مار دی۔
  • پارلیمنٹ ہاؤس کے اندر موجود سٹاف اور دیگر لوگوں کو ہدایت کی گئی تھی کہ وہ اپنے دفاتر سے باہر نہ نکلیں۔
  • حملے کے وقت وزیراعظم ٹریزا مے پارلیمان میں موجود تھیں اور انھیں فوری طور پر عمارت سے نکال کر محفوظ مقام پر منتقل کر دیا گیا تھا۔
  • ایک خاتون کو دریائے تھیمز میں سے شدید زخمی حالت میں نکالا گیا۔ ابھی یہ واضح نہیں کہ انھوں نے خود کو بچانے کے لیے دریا میں چھالنگ لگائی یا پھر کار کی ٹکر سے وہ دریا میں جا گریں۔
  • برطانوی وزیراعظم ٹریزا مے کا کہنا ہے کہ حملہ کرنے والے شخص کے بارے میں پولیس اور خفیہ اداروں کو معلوم تھا۔ ایوانِ زیریں سے خطاب میں انھوں نے بتایا کہ حملہ آور برطانیہ میں ہی پیدا ہوا تھا اور کچھ برس قبل اسے شدت پسندی کے حوالے سے تحقیقات میں شامل کیا گیا تھا۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ یہ حملہ آور کسی موجودہ تفتیش کا حصہ نہیں تھا۔

اسی بارے میں