جنوبی کوریا کا غرقاب جہاز تین برس بعد سمندر سے نکالا گيا

غرقاب جہاز تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption جہاز ڈوبنے کا یہ حادثہ 16 اپریل سنہ 2014 میں پیش آیا تھا جس میں زیادہ تر سکول کے طلبا سوار تھے

جنوبی کوریا کے غرق ہونے والے ایک مسافر جہاز سیوول کو تین برس کے بعد پانی کے اندر سے نکال لیاگيا ہے، اس حادثے میں تین سو سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے تھے۔

جہاز ڈوبنے کا یہ حادثہ 16 اپریل سنہ 2014 میں پیش آیا تھا جس میں زیادہ تر سکول کے طلبا سوار تھے۔

جہاز کو چرخی کی مدد سے پانی کی سطح پر کھینچا گیا ہے تاکہ اس کے نیچے پلیٹ فارم نما کوئی چیز رکھ کر اسے ساحل تک لایا جا سکے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption 6825 ٹن وزنی جہاز کو پانی سے نکالنے کا عمل حکومت کے لیے ایک بڑا پیچیدہ آپریشن ہے

امکان ہے کہ دو ہفتے کے اندر یہ بندر گاہ تک پہنچ جائے گا جہاں متاثرین کے بہت سے لواحقین اسے قریب سے دیکھ سکیں گے۔

خیال کیا جاتا ہے کہ حادثے میں ہلاک ہونے والے نو افراد کی لاشیں اسی غرقاب کشتی میں ہی پھنس کر رہ گئیں تھی اسی لیے لواحقین کی جانب سے اسے پانی سے باہر لانے کا مطالبہ بھی تھا۔

جندو جزیرے پر موجود بی بی سی کے نامہ نگار سٹیفین ایوان کا کہنا ہے کہ حکومت نے دباؤ کے سامنا کرتے ہوئے 6825 ٹن وزنی جہاز کو پانی سے نکالنے کا کام کیا ہے جو اس کے لیے ایک بڑا پیچیدہ آپریشن تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA

ہاؤ ہونگ کی 16 سالہ بیٹی بھی اس جہاز میں سوار تھیں جن کی باقیات آج تک نہیں مل پائیں۔ انھوں نے ایک کشتی میں سوار ہوکر پاس سے اس جہاز کو پانی سے نکلتے ہوئے دیکھا۔

انھوں نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو اس بارے میں اپنے تاثرات بتاتے ہوئے کہا: ’سیوول کو دوبارہ دیکھنا، میں بیان نہیں کر سکتا کہ میں اس وقت کیا محسوس کر رہا ہوں۔‘

اس جہاز کے ڈوبنے کے لیے اس کے غلط ڈیزائن، حد سے زیادہ سامان لادنے، ناتجربہ کار عملہ اور حکومت کی نگرانی میں لاپرواہی جیسے عوامل کو ذمہ درار ٹھہرایا گیا تھا۔ بعد میں عدالت نے کپتان کو اس کے لیے قصوروار ٹھہرایا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ REUTERS/KOREA COAST GUARD

جہاز کے کپتان نے تسلیم کیا تھا کہ جہاز خالی کرنے کا حکم دینے میں ان سے تاخیر ہوئی کیونکہ انھیں مسافروں کے ڈوب کر بہہ جانے کا خدشہ تھا۔

جنوبی کوریا میں جہاز کے حادثے کے بعد شدید غم و غصے کا اظہار کیا گیا تھا اور امدادی کارروائی پر حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں