صحت بل پر ہر حال میں ووٹنگ کریں، ٹرمپ کا الٹی میٹم

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مطالبہ کیا ہے کہ جمعے کو ایوانِ نمائندگان میں نئے نظامِ صحت پر ووٹنگ کروائی جائے۔

صدر ٹرمپ سابق صدر اوباما کے 'اوباما کیئر' نامی قانون کی جگہ امیریکن ہیلتھ کیئر ایکٹ کو نافذ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

تاہم جمعرات کو اس مسودۂ قانون پر اس وقت رائے شماری ملتوی ہو گئی جب بعض رپبلکن ارکان نے بھی اس پر اعتراضات کیے، حالانکہ صدر ٹرمپ بار بار ان پر زور دیتے رہے ہیں کہ وہ اس بل کی حمایت کریں۔

٭ڈونلڈ ٹرمپ اوباما کیئر کے کچھ حصوں پر غور کے لیے تیار

اب صدر کا کہنا ہے کہ چاہے جو بھی نتیجہ نکلے، وہ جمعے کو ہر حال میں اس پر ووٹنگ چاہتے ہیں۔

وائٹ ہاؤس کے بجٹ ڈائریکٹر مک ملوانی نے کہا کہ جمعرات کو بند کمرے میں ہونے والے ایک اجلاس میں رپبلکن ارکان کو یہی پیغام دیا گیا ہے۔

ایوانِ زیریں کے سپیکر پال رائن نے کہا: 'ہم ساڑھے سات برس تک عوام سے وعدہ کرتے چلے آئے ہیں کہ ہم اس شکستہ قانون کو منسوخ کر دیں گے کیوں کہ یہ ناکام ہو رہا ہے اور خاندانوں کی توقعات پر پورا نہیں اتر رہا، اور کل ہم اس پر آگے بڑھیں گے۔'

دوسری طرف نیو یارک سے تعلق رکھنے والے رپبلکن رکن کرس کولنز نے کہا: 'صدر نے کہا ہے کہ وہ کل ووٹنگ چاہتے ہیں چاہے حق میں یا مخالفت میں۔

'اگر کسی وجہ سے مخالفت میں فیصلہ آ گیا تو ہم اس ایجنڈے کے مزید حصوں کے ساتھ آگے بڑھیں گے۔'

صدر ٹرمپ کی صدارتی مہم کا ایک اہم حصہ اوباما کیئر کی منسوخی تھا۔

ہیلتھ پروگرام میں ووٹنگ کےموخر ہونے سے صدر ٹرمپ کو دھچکہ لگا ہے کیونکہ انھوں نے اصرار کیا تھا کہ کہ وہ جمعرات کو کانگریس کے ایوانِ زیریں میں ہونے والی رائے شماری میں کامیابی حاصل کریں گے۔

یاد رہے کہ امریکہ کے ہیلتھ کیئر ایکٹ میں اس بات کا عندیہ دیا گیا ہے یہ سابق صدر براک اوباما کے دستخط شدہ بل کی جگہ لے گا۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA

یاد رہے کہ بل پاس کرنے کے لیے 215 ووٹ درکار ہوتے ہیں۔

صدر ٹرمپ نے وعدہ کر رکھا ہے کہ صحت کا نیا مجوزہ قانون اوباما کیئر سے کہیں زیادہ بہتر ہو گا۔ ان کا دعویٰ ہے کہ اس کے ذریعے زیادہ لوگوں کو صحت کی سہولیات فراہم ہوں گی۔

اسی بارے میں