شامی جنگجوؤں نے طبقہ ڈیم پر حملہ روک دیا

طبقہ ڈیم تصویر کے کاپی رائٹ OPERATION INHERENT RESOLVE
Image caption اسد جھیل پر قائم ساڑھے چار کلومیٹر طویل طبقہ ڈیم شام کا سب سے بڑا ڈیم ہے

امریکی پشت پناہی سے لڑنے والے شامی جنگجوؤں نے طبقہ ڈیم پر حملہ روک دیا ہے تاکہ انجینیئر وہاں تعمیراتی کام مکمل کر سکیں اور ڈیم کام کرتا رہے۔

شامی ڈیموکریٹک فورسز (ایس ڈی ایف) نامی یہ اتحاد شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ سے رقہ شہر کے مغرب میں دریائے فرات پر واقع اس ڈیم پر قبضے کے لیے نبردآزما ہے۔

اتوار کو امریکی اتحادی فوجوں نے اس بات کی تردید کی کہ ان کے فضائی حملوں میں ڈیم کو نقصان پہنچا ہے۔ تاہم اطلاعات کے مطابق یہ ڈیم کام نہیں کر رہا۔

اقوامِ متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ اگر ڈیم ٹوٹ گیا تو اس سے رقہ صوبے میں 'بہت بڑے پیمانے' پر سیلاب آ سکتا ہے جس کے 'تباہ کن اثرات' مرتب ہوں گے۔

اسد جھیل پر قائم ساڑھے چار کلومیٹر طویل یہ شام کا سب سے بڑا ڈیم ہے۔ اس پر دولتِ اسلامیہ نے 2014 میں قبضہ کر لیا تھا جس سے شام کے بڑے حصے کو بجلی فراہم کرنے والا یہ مرکز ان کی تحویل میں آ گیا تھا۔

اتحادی فوج کا یہ بھی کہنا ہے کہ دولتِ اسلامیہ کے سینکڑوں جنگجوؤں نے اس ڈیم کو اپنا مرکز بنا رکھا ہے جہاں قیدی رکھے جاتے ہیں، جنگجوؤں کی تربیت ہوتی ہے اور بیرونِ ملک حملوں کی منصوبہ بندی کی جاتی ہے۔

ایس ڈی ایف کے اس ڈیم پر حملے کا مقصد طبقہ نامی قریبی قصبے سے دولتِ اسلامیہ کے شدت پسندوں کو نکال باہر کرنے کے وسیع تر منصوبے کا حصہ ہے۔ طبقہ اور اس کے ہوائی اڈے پر ایس ڈی ایف نے اتوار کو قبضہ کر لیا تھا۔

اتوار کو دولِت اسلامیہ نے کہا تھا کہ اتحایوں کے حملوں سے ڈیم کے دروازے بند ہو گئے ہیں جن سے ڈیم کے اندر پانی کی سطح خطرناک حد تک بڑھتی جا رہی ہے، جس سے ڈیم کسی بھی وقت ٹوٹ سکتا ہے۔

دولتِ اسلامیہ نے اپنے گڑھ رقہ کے باسیوں سے کہا تھا کہ وہ شہر سے انخلا کر لیں اور انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق بعض لوگوں نے ایسا کرنا شروع بھی کر دیا تھا۔

تاہم بعد میں دولتِ اسلامیہ نے رقہ میں لاؤڈسپیکروں سے اعلان کروایا کہ ڈیم سلامت ہے اور انخلا کی ضرورت نہیں ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ OPERATION INHERENT RESOLVE
Image caption طبقہ پر حملے کے لیے امریکہ نے ایس ڈی ایف کے جنگجوؤں ہیلی کاپٹروں کی مدد سے دولتِ اسلامیہ کے علاقے میں اتارا

دریں اثنا اتحادی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے ڈیم کو نشانہ نہیں بنایا اور نہ ہی اسے نقصان پہنچا ہے۔

اب ایس ڈی ایف نے کہا ہے کہ وہ ڈیم پر حملہ موقوف کر رہی ہے تاکہ اس کی تعمیر کے تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔

اس نے کہا ہے کہ یہ فیصلہ ڈیم کے منتظمین کی جانب سے درخواست کے بعد کیا گیا ہے، تاہم انھوں نے یہ وضاحت نہیں کی کہ آیا وہ منتظمین دولتِ اسلامیہ کی حکومت کا حصہ تھے یا شامی حکومت کا۔

ایک شخص نے خبررساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ ڈیم کے پاور سٹیشن کو نقصان پہنچا ہے اور انجینیئر نقصان کی نوعیت کا اندازہ لگانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں