لندن میں ویسٹ منسٹر پل پر حملہ: کچھ مزید حقائق

یو کے تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption لندن کا ویسٹ منسٹر پل

لندن میں بدھ کے روز ویسٹ منسٹر پل پر ہونے والے دہشت گردی کے واقعے کے نئے حقائق سامنے آئے ہیں:

لندن میں دہشت گردی، پولیس اہلکار اور خاتون راہگیر ہلاک

’لندن حملہ آور کے بارے میں ایم آئی 5 کو معلوم تھا‘

• باس واقعے میں ہلاک ہونے والے چوتھے شخص کی شناخت ظاہر کر دی گئی ہے۔ ہلاک ہونے والے 75 سالہ شخص کا نام لیزلی رہوڈز ہے جن کے تعلق لندن کے علاقے سٹریٹ ہیم سے تھا۔

• پولیس کے مطابق 52 حملہ آور خالد مسعود کا پیدائشی نام ایڈرائن رسل آجاؤ ہے۔

• پولیس کی ویسٹ مڈلینڈز اور نارتھ ویسٹ میں دو اہم کاروایئوں کے بعد نو افراد کو حراست میں لیا جا چکا ہے ۔

• حملے میں پچاس افراد زخمی ہوئے تھے جن میں سے دو کی حالت نازک ہے اور ایک شخص کو جان لیوا زخم آئے ہیں۔

• پولیس نے واقعے کے بعد اب تک 3500 عینی شاہدین سے رابطہ کیا ہے۔

• تفتیشی کے سلسلے میں پولیس نے اب تک 2700 اشیا اپنے قبضے میں لی ہیں۔

• پولیس نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ حملہ آور اور اس کے مددگاروں کے بارے میں کسی بھی معلومات سے ان کو آگاہ کریں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption دہشت گردی کے واقعے کے بعد ایک پولیس اہلکار ویسٹ منسٹر پل پر مستعد کھڑا ہے

• ہلاک ہونے والے 4 افراد میں ایک پولیس اہلکار، ایک 40 سالہ خاتون، ایک 50 سالہ مرد، اور حملہ آور شامل ہیں۔

• جمعرات کو شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ نے اس حملہ کی ذمہ داری قبول کی۔ ان کا کہنا تھا کہ حملہ آور ان کا 'ایک سپاہی تھا۔'

• حملے میں متاثرین کا تعلق دس مختلف ممالک سے ہے۔ وزیراعظم مے نے بتایا کہ زخمیوں میں تین فرانسیسی، دو جنوبی کوریائی، ایک پولش، ایک چینی، ایک اطالوی، ایک امریکی، ایک جرمن، اور دو یونانی شامل ہیں۔

• زخمیوں میں تین پولیس اہلکار بھی شامل ہیں۔

• برطانوی وزیراعظم ٹریزا مے نے بتایا ہے کہ حملہ آور برطانیہ میں ہی پیدا ہوا تھا اور سکیورٹی ادارے اس سے واقف تھے کیونکہ کچھ برس قبل اسے شدت پسندی کے حوالے سے تحقیقات میں شامل کیا گیا تھا۔

• حملہ آور کے بارے بتایا گیا ہے کہ وہ 52 سال کا ایک مرد تھا جو کہ ایک چاقو سے لیس تھا اور اسے پولیس نے موقعے پر ہی گولی مار دی تھی۔ حکام اس بات کی تحقیق کر رہے ہیں کہ کیا وہ اس حملے میں تنہا ہی ملوث تھا۔

• برطانوی وزیراعظم ٹریزا مے کا کہنا ہے کہ حملہ کرنے والے شخص کے بارے میں پولیس اور خفیہ اداروں کو معلوم تھا۔ ایوانِ زیریں سے خطاب میں انھوں نے بتایا کہ حملہ آور برطانیہ میں ہی پیدا ہوا تھا اور کچھ برس قبل اسے شدت پسندی کے حوالے سے تحقیقات میں شامل کیا گیا تھا۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ یہ حملہ آور کسی موجودہ تفتیش کا حصہ نہیں تھا۔

• مقامی وقت کے مطابق دوپہر کے دو بج کر چالیس منٹ پر پولیس کو پہلی ہنگامی کال آئی۔

• مصدقہ اطلاعات کے مطابق ایک شخص نے ویسٹ منسٹر پل پر پارلیمنٹ کی عمارت اور بگ بن کے قریب گرے رنگ کی ہنڈائی آئی 40 کار راہگیروں پر چڑھا دی۔

• اس کے بعد کار برطانوی پارلیمان کی باڑ سے جا ٹکرائی۔

• اس کے بعد حملہ آور کار سے نکالا اور اس نے ایک پولیس اہلکار کو چاقو مارا۔ پولیس اہلکار کو بچانے کی ایک رکنِ پالرمیان کی کوشش ناکام رہی اور وہ ہلاک ہوگیا۔

• اس موقعے پر ایک اور پولیس اہلکار نے حملہ آور کو گولی مار دی۔

• پارلیمنٹ ہاؤس کے اندر موجود سٹاف اور دیگر لوگوں کو ہدایت کی گئی تھی کہ وہ اپنے دفاتر سے باہر نہ نکلیں۔

• حملے کے وقت وزیراعظم ٹریزا مے پارلیمان میں موجود تھیں اور انھیں فوری طور پر عمارت سے نکال کر محفوظ مقام پر منتقل کر دیا گیا تھا۔

• ایک خاتون کو دریائے تھیمز میں سے شدید زخمی حالت میں نکالا گیا۔ ابھی یہ واضح نہیں کہ انھوں نے خود کو بچانے کے لیے دریا میں چھالنگ لگائی یا پھر کار کی ٹکر سے وہ دریا میں جا گریں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں