امریکی بمباری میں 200 شہریوں کی ہلاکت پر اقوامِ متحدہ کی تشویش

عراق تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption اخبار نیو یارک ٹائمز نے امریکی فوجی ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ وہ 17 سے 23 مارچ کے درمیان ہونے والے اس حملے کی تفتیش کر رہے ہیں۔

اقوامِ متحدہ نے عراقی شہر موصل میں بڑی تعداد میں شہریوں کی ہلاکتوں پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔

اقوامِ متحدہ کے ایک سینیئر عہدے دار نے کہا کہ انھیں ان ہلاکتوں پر سخت صدمہ پہنچا ہے۔ اس سے قبل دعویٰ کیا گیا تھا کہ موصل میں امریکی قیادت والے اتحاد کی فضائی حملوں میں 200 سے زیادہ افراد مارے گئے تھے۔

امریکی فوج موصل میں شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کے خلاف عراقی فوج کی مدد کر رہی ہے۔

امریکی میڈیا کی اطلاعات کے مطابق اس حملے کی تفتیش کی جا رہی ہے۔ اس حملے کے بارے میں مزید تفصیلات نہیں بتائی گئیں۔

تاہم مغربی موصل میں صحافیوں کا کہنا ہے کہ مارچ کے مہینے میں کی گئی ایک فضائی کارروائی کے بعد جمعے کے روز جدیدہ کے علاقے میں ایک عمارت سے 50 لاشیں نکالی گئیں۔

اخبار نیو یارک ٹائمز نے امریکی فوجی ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ وہ 17 سے 23 مارچ کے درمیان ہونے والے اس حملے کی تفتیش کر رہے ہیں۔

سنہ 2014 میں عراق کے دوسرے بڑے شہر موصل پر جہادیوں نے قبضہ کر لیا تھا۔ تاہم عراقی افواج کی جانب سے کئی ماہ جاری رہنے والی کارروائی کے بعد کئی علاقوں پر دوبارہ قبضہ حاصل کر لیا گیا ہے۔

عراقی فوج اس وقت موصل کے تمام مشرقی علاقوں پر قابض ہے۔ پانچ مارچ سے امریکہ کی مدد سے شروع ہونے والی حالیہ کارروائی سے شدت پسند مغرب کی جانب کئی اہم جگہوں کو خالی کرنے پر مجبور ہوئے ہیں اور ان مقامات میں مقامی حکومت کا مرکزی دفتر اور موصل کا عجائب گھر بھی شامل ہیں۔

ہفتہ وار چھٹیوں کے دنوں میں شدید لڑائی جاری رہی تاہم دولت اسلامیہ کے خلاف جاری کارروائی میں شامل سینیئر امریکی اہلکار بریٹ میک گرک نے اتوار کو بغداد میں صحافیوں کو بتایا کہ 'گذشتہ رات، عراقی فوج کے نویں ڈویژن نے ۔۔۔۔ موصل سے باہر جانے والے آخری راستے کو کاٹ دیا ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ 'موصل میں جنگجوؤں میں سے جو کوئی بھی بچا ہے، وہ مارا جائے گا، کیونکہ وہ پھنس گئے ہیں۔ ہم نہ صرف موصل میں انھیں شکست دینے کے لیے پرعزم ہیں بلکہ اس امر کو بھی یقینی بنائیں گے کہ وہ بھاگ نہ سکیں۔'

یہ خیال ظاہر کیا جارہا ہے کہ موصل میں دولت اسلامیہ کے زیرقبضہ علاقوں میں چھ لاکھ شہری بھی پھنسے ہوئے ہیں۔

واضح رہے کہ چند روز قبل عراقی افواج کا کہنا تھا کہ موصل کے نزدیک بدوش جیل میں ایک اجتماعی قبر دریافت ہوئی ہے جس میں 500 لوگوں کی باقیات ملی ہیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں