معاہدۂ روم کے 60 سالہ جشن میں اتحاد پر زور

یورپی رہنما تصویر کے کاپی رائٹ AFP

برطانیہ کو چھوڑ کر یورپی یونین کے 27 ممالک کے سربراہان اٹلی کے دارالحکومت روم میں 'معاہدۂ روم' کی 60 ویں سالگرہ کے جشن میں شرکت کے موقع اتحاد کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

سنہ 1957 میں ہونے والے اس معاہدے کے سبب یورپی یونین کے قیام کا راستہ ہموار ہوا تھا اور اب اس معاہدے کی یاد میں منعقدہ تقریب میں 27 ممالک کے سربراہان نے اتحاد کے نام سے ایک نئے اعلامیے پر دستخط کیے۔

برطانوی وزیر اعظم ٹریزا مے نے اس جشن میں شرکت نہیں کی اور وہ آئندہ بدھ کو بریگزٹ کا عمل شروع کرنے کا منصوبہ رکھتی ہیں۔

جرمنی کی چانسلر انگیلا میرکل نے سنیچر کو ہونے والے معاہدے کو عمل انگیز قرار دیتے ہوئے اپنے ملک کے اس موقف کو دوہرایا کہ یورپی اتحاد کے ملک اپنی اپنی رفتار سے آگے بڑھ سکتے ہیں۔

’ہم نے واضح طور پر کہا ہے کہ ہم ایک ہی سمت میں جانا چاہتے ہیں اور چند چیزوں پر بات نہیں ہو سکتی جیسا کہ سنگل مارکیٹ، چار بنیادی آزادیاں جو ہماری آزادی کی اقدار ہیں، یہ آزادی رائے، پریس کی آزادی، مذہب کی آزادی اور بات کرنے کی آزادی ہے اور یہ ہمیں مضبوط بناتی ہیں اور ہم ان پر کوئی سمجھوتہ نہیں کر سکتے۔

خیال رہے کہ پولینڈ کی جانب سے سنیچر کو ہونے والے معاہدے کی مخالفت کی گئی تھی جبکہ اس کے خلاف احتجاجی مظاہرے بھی ہوئے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP / GETTY IMAGES
Image caption روم میں 60 سالہ جشن کی شام سے 27 یورپی ممالک کے سربراہان کو پوپ فرانس کے ساتھ دیکھا جا سکتا ہے

اس سے پہلے پوپ فرانسس نے اس سربراہی اجلاس سے قبل تمام سربراہان مملکت کو ویٹیکن سٹی میں خوش آمدید کہا۔

اپنے خطاب میں انھوں نے کہا کہ اگر مستقبل پر نظر نہ ہو تو ہر تنظیم کو مرنے کا خطرہ ہے اور اس طرح انھوں نے یورپی یونین کو تازہ جوش و قوت کے ساتھ آگے بڑھنے کا پیغام دیا۔

انھوں نے موقع پرستوں کی جانب سے 'سکیورٹی کی جھوٹی شکلوں' پر متنبہ کیا جو وسیع اتحاد کے بجائے اپنے گرد حصار بنانا چاہتے ہیں۔

خیال رہے کہ اصلی معاہدۂ روم کے بطن سے یورپی معاشی برادری شروع ہوئی تھی اور اس کے بعد ہی یورپی یونین کا خواب شرمندۂ تعبیر ہو سکا۔

اس معاہدے پر چھ ممالک بیلجیئم، فرانس، اٹلی، لکزمبرگ، نیدرلینڈز اور مغربی جرمنی نے دستخط کیے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP / GETTY IMAGES
Image caption فرانس کے دفتر خارجہ کو اس موقعے پر یورپی یونین کے رنگ میں رنگ دیا گيا

اس موقعے پر امریکہ نے یورپ کے رہنماؤں کو مبارکباد پیش کی ہے۔ وائٹ ہاؤس نے ایک بیان میں کہا: 'اس طرح ہم ایک ساتھ مشترکہ سکیورٹی اور مشترکہ خوشحالی کے مزید 60 سالوں کی امید کرتے ہیں۔'

صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس اتحاد کے مخالف نظر آئے ہیں اور انھوں نے بریگزٹ کو 'اچھی چیز' کہا ہے اور ان کے خیال میں مزید ممالک اس راہ پر چلتے ہوئے یورپی یونین سے علیحدگی اختیار کریں گے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں