امریکی فوج کی موصل میں فضائی حملے عام شہریوں کی ہلاکت کی تحقیقات

عراق تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption اخبار نیو یارک ٹائمز نے امریکی فوجی ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ وہ 17 سے 23 مارچ کے درمیان ہونے والے اس حملے کی تفتیش کر رہے ہیں۔

امریکی فوج نے تصدیق کی ہے کہ عراق میں اتحادی فوج کے طیاروں نے عراقی شہر موصل کے مغربی علاقے میں اس مقام پر بمباری کی تھی جہاں پر عام شہریوں کے مارے جانے کی اطلاع ہے۔

اس سے پہلے اقوامِ متحدہ نے موصل میں بڑی تعداد میں شہریوں کی ہلاکتوں پر شدید تشویش کا اظہار کیا تھا۔

امریکی بمباری میں 200 شہریوں کی ہلاکت پر اقوامِ متحدہ کی تشویش

اقوامِ متحدہ کے ایک سینیئر عہدے دار نے کہا کہ انھیں ان ہلاکتوں پر سخت صدمہ پہنچا ہے۔ اس سے قبل دعویٰ کیا گیا تھا کہ موصل میں امریکی قیادت والے اتحاد کی فضائی حملوں میں 200 سے زیادہ افراد مارے گئے تھے۔

امریکی فوج موصل میں شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کے خلاف عراقی فوج کی مدد کر رہی ہے۔

امریکی فوج کے مطابق اس واقعے کی تفتیش کی جا رہی ہے۔ اس حملے کے بارے میں مزید تفصیلات نہیں بتائی گئیں۔

دوسری جانب موصل میں دولتِ اسلامیہ کے زیر قبضہ علاقوں میں رہائش پذیر ہزاروں عام شہریوں نے ممکنہ فضائی حملوں اور عراقی فوج سے شدت پسند تنظیم کے جنگجوؤں کی شدید جھڑپوں کے نتیجے میں محفوظ مقامات کی جانب نقل مکانی شروع کر دی ہے۔

مقامی افراد کا کہنا ہے کہ دولتِ اسلامیہ انھیں انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کر رہی ہے۔

امریکی فوج کی سینٹرل کمانڈ کی جانب سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق عراقی سکیورٹی فورسز کی درخواست پر جنگی جہازوں نے کارروائی کی تاہم یہ نہیں بتایا کہ جنگی جہاز کس ملک کے تھے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ اتحاد عام شہریوں کی ہلاکت کے الزامات کو بہت سنجیدگی سے لیتا ہے اور شہری ہلاکتوں کے واقعے کی باقاعدہ تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں اور فضائی کارروائی کے بارے میں بتائے جانے والے حقائق کا تعین کیا جا رہا ہے۔

’کارروائی کے ابتدائی ڈیٹا کے جائزے کے مطابق 17 مارچ کو موصل کے مغرب میں اس جگہ فضائی کارروائی کی گئی جہاں پر عام شہریوں کے ہلاک ہونے کی اطلاعات مل رہی ہیں۔‘

مغربی موصل میں صحافیوں کا کہنا ہے کہ مارچ کے مہینے میں کی گئی ایک فضائی کارروائی کے بعد جمعے کے روز جدیدہ کے علاقے میں ایک عمارت سے 50 لاشیں نکالی گئیں۔

موصل کے مغربی حصے کے باسیوں نے کہا ہے کہ حالیہ بمباری کے بعد سے بہت سے شہری اب بھی ملبے تلے دبے ہوئے ہیں۔

ایک حاتون نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کے خاندان کے نو افراد مارے گئے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ایک پناہ گاہ کے ملبے تلے اب بھی ایک سو سے زیادہ لاشیں دبی ہوئی ہیں۔

مغربی موصل میں بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ وہاں آج بھی فضائی حملے ہوئے ہیں۔

سنہ 2014 میں عراق کے دوسرے بڑے شہر موصل پر جہادیوں نے قبضہ کر لیا تھا۔ تاہم عراقی افواج کی جانب سے کئی ماہ جاری رہنے والی کارروائی کے بعد کئی علاقوں پر دوبارہ قبضہ حاصل کر لیا گیا ہے۔

عراقی فوج اس وقت موصل کے تمام مشرقی علاقوں پر قابض ہے۔ پانچ مارچ سے امریکہ کی مدد سے شروع ہونے والی حالیہ کارروائی سے شدت پسند مغرب کی جانب کئی اہم جگہوں کو خالی کرنے پر مجبور ہوئے ہیں اور ان مقامات میں مقامی حکومت کا مرکزی دفتر اور موصل کا عجائب گھر بھی شامل ہیں۔

اسی بارے میں