لباس کے باعث خواتین کو جہاز میں سوار نہ کرنے پر امریکی ایئر لائن پر تنقید

یونائیٹڈ ایئر لائنز تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption یونائیٹڈ ایئر لائنز نے وضاحت کی ہے کہ پاس والوں کے لیے لباس کا ضابطہ ہے

امریکی طیارے یونائیٹڈ ایئرلائنز کو سوشل میڈیا پر تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے کیونکہ اس نے دو لڑکیوں کو مبینہ طور پر پرواز کرنے سے اس لیے روک دیا کہ انھوں نے چست پاجامے پہن رکھے تھے۔

رضاکار شینن واٹس کے مطابق یہ واقعہ ڈینور سے مینیاپولس جانے والی پرواز میں اتوار کی صبح پیش آيا۔

ایئر لائنز کا کہنا ہے کہ یہ لڑکیاں ملازمین اور ان کے مہمانوں کے لیے دیے جانے والے سپیشل پاس پر سفر کر رہی تھیں اور اس کے لیے ایک مخصوص لباس لازمی ہے۔

اس کے بعد سے ایئرلائنز نے یہ وضاحت کی ہے کہ تمام مستقل اور پیسہ ادا کرکے سفرکرنے والے عام مسافروں کو لیگنگز میں سفر کرنے کی اجازت ہوگی۔

ایئرلائنز نے اس تنازع کے بعد ٹوئٹر پر وضاحت کی کہ یہ لڑکیاں 'یونائٹیڈ پاس' پر سفر کر رہی تھیں جو کہ کمپنی کے ملازمین اور ان پر منحصر اہل لوگوں کے لیے ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter
Image caption مز شینن نے ٹویٹ کے ذریعے اس واقعے کو عوام کے سامنے پیش کیا

اس پاس کے حاملین کو مفت یا بہت کم قیمت پر سفر کی اجازت ہوتی ہے۔ پاس کے حاملین کے ڈریس کوڈ میں یہ بات درج ہے کہ یہ بہت زیادہ چست، کھلے ہوئے، منی سکرٹ یا فلپ فلاپ قسم کے لباس نہیں پہن سکتے۔

رضاکار شینن واٹس نے ڈینور ایئرپورٹ پر لڑکیوں کے ساتھ پیش آنے والے واقعات کے بارے میں ٹویٹ کیا۔

انھوں نے لکھا کہ درواز ے پر کھڑا ایک کارندہ لڑکیوں سے لباس تبدیل کرنے یا پھر لیگنگز پر دوسرے کپڑے پہنے کے لیے زور دے رہا تھا۔ اس میں سے ایک لڑکی کی عمر دس سال تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter
Image caption ہیتھر پول نے لکھا کہ ہر کسی کے لیے ڈریس کوڈ ضروری ہے

انھوں نے بتایا کہ تین لڑکیوں کو کپڑے کے اوپر کپڑا پہننے کے بعد سفر کی اجازت دے دی گئی لیکن دو لڑکیوں کو سفر سے روک دیا گیا۔

شینن نے اس واقعے پر تنقید کرتے ہوئے لکھا کہ یونائیٹڈ کو خواتین کے لباس پر نظر رکھنے کی اجازت کب سے مل گئی ہے۔

بہت سے لوگوں نے یونائیٹڈ کے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ پاس والوں کے لیے لباس کے ضوابط ایک عرصے سے رائج ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں