’موصل میں شہریوں کی ہلاکتیں ممکنہ ’جنگی جرائم‘: ایمنیسٹی

موصل تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption اتحادی فوجوں نے موصل پر سینکڑوں فضائی حملے کیے ہیں

انسانی حقوق کے ادارے ایمنیسٹی انٹرنیشنل نے کہا ہے کہ دولتِ اسلامیہ کے خلاف موصل میں امریکی قیادت میں لڑنے والی اتحادی افواج بظاہر شہریوں کی ہلاکتوں سے بچنے کے لیے خاطر خواہ اقدامات کرنے میں ناکام ہو رہی ہیں۔

تنظیم نے موصل پر فضائی حملوں کے دوران ایک 'تشویش ناک رجحان' دیکھا ہے جس میں پورے پورے خاندانوں کو تباہ کر دیا گیا۔

عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ اس ماہ ہونے والے حملوں میں سینکڑوں عام شہریوں کو ہلاک کیا گیا ہے۔

٭ امریکی فوج کی موصل میں عام شہریوں کی ہلاکت کی تحقیقات

٭ امریکی بمباری میں 200 شہریوں کی ہلاکت پر اقوامِ متحدہ کی تشویش

اتحاد کی جانب سے ایمنیسٹی کی رپورٹ پر کوئی فوری ردِعمل سامنے نہیں آیا۔

تاہم اس سے قبل اس نے کہا تھا کہ وہ شہریوں کو نقصان سے بچانے کے لیے فضائی حملوں کی منصوبہ بندی کرتے وقت ہر ممکن احتیاطی تدابیر کرتا ہے۔

امریکی وزیرِ دفاع جیمز میٹس نے پیر کو کہا تھا کہ 'دنیا میں کوئی اور فوجی طاقت نہیں ہے جو شہریوں کی ہلاکت کے معاملے پر (امریکہ سے) زیادہ حساس ہو۔‘

موصل میں رہنے والے پونے تین لاکھ سے زیادہ شہری جنگ شروع ہونے کے بعد وہاں سے نقلِ مکانی کر گئے تھے تاہم ابھی بہت سے ایسے ہیں جنھوں نے عراقی حکومت کی جانب سے اپنے گھروں ہی میں رہنے کے مشورے پر عمل کیا ہے۔

اطلاعات کے مطابق 17 مارچ کو مغربی موصل کے علاقے جدیدہ میں ہونے والے ایک اتحادی حملے میں کم از کم ڈیڑھ سو عام شہری مارے گئے تھے۔

اتحاد نے اس واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں اور امریکی فوج نے کہا ہے کہ ابتدائی تحقیقات کے مطابق اس دن اس علاقے کے قریب حملہ کیا گیا تھا۔

تاہم عراقی فوج نے کہا ہے کہ اس نے وہاں کا دورہ کیا تو ادھر سے کسی فضائی حملے کے شواہد نہیں ملے، البتہ انھوں نے بموں سے لدی ایک بڑی گاڑی کے آثار ضرور دیکھے۔

ایمنیسٹی کے مطابق ایک اور حملے میں چھ جنوری کو مشرقی موصل میں 16 افراد مارے گئے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption موصل میں بہت سے شہری ابھی تک گھرے ہوئے ہیں

پڑوسیوں نے تنظیم کو بتایا کہ انھوں نے اس گھر کے آس پاس دولتِ اسلامیہ کے کسی جنگجو کو نہیں دیکھا۔

ایمنیسٹی کی ڈونالیٹا رویرا نے موصل میں ان واقعات کی تحقیقات کی ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ شہریوں کی اس بڑے پیمانے پر ہلاکتوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ اتحادی فوجیں خاطر خواہ حفاظتی تدابیر کرنے میں ناکام رہی ہیں۔

انھوں نے کہا: 'عراقی حکام نے بارہا لوگوں سے کہا ہے کہ وہ اپنے گھروں کے اندر رہیں، اس حقیقت سے ظاہر ہوتا ہے کہ اتحادی فوجوں کو معلوم ہونا چاہیے تھا کہ ان حملوں سے بڑے پیمانے پر ہلاکتوں کا خدشہ ہے۔

'غیرمساوی اور اندھا دھند حملے بین الاقوامی انسانی قوانین کی خلاف ورزی ہیں اور یہ جنگی جرائم کے زمرے میں آ سکتے ہیں۔'

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں