’انکل کیتھی‘ جنوبی افریقہ کے ’اخلاقی سمت نما‘

احمد کتھراڈا تصویر کے کاپی رائٹ AFP

جنوبی افریقہ کے سینیئر مزاحمتی رہنما احمد کتھراڈا کا 87 برس کی عمر میں انتقال ہو گیا ہے۔

ان کی فاؤنڈیشن کا کہنا ہے کہ وہ ایک مختصر علالت کے بعد جوہانسبرگ کے ایک ہسپتال میں پرسکون انداز میں چل بسے۔

نیلسن منڈیلا کے بعد کتھراڈا افریقن نیشنل کانگریس کے ان آٹھ کارکنوں میں شامل ہیں جنھیں 1964 میں عمر قید کی سزا سنائی گئی تھی۔

ان پر الزام تھا کہ انھوں نے سفید فام حکومت کا تختہ الٹنے کی سازش کی تھی۔

احمد کتھراڈا کو بدھ کے روز ایک نجی تقریب میں سپردِ خاک کیا جائے گا۔ صدر جیکب زوما نے کہا ہے کہ ان کے اعزاز میں قومی پرچم سرنگوں رہے گا۔

بی بی سی کے نامہ نگار ملٹن نکوسی کہتے ہیں کہ کتھراڈا کا نہ صرف نیلسن منڈیلا کے قریبی ساتھیوں میں شمار ہوتا تھا بلکہ وہ خود بھی انسانی حقوق کے سرگرم کارکن تھے اور ان کی نسلی تعصب کے خلاف جدوجہد کی داستان طویل ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

'اخلاقی سمت نما'

احمد کتھراڈا، جنھیں 'انکل کیتھی' بھی کہا جاتا تھا، کے انتقال کے ساتھ جنوبی افریقہ میں تعصب کے خلاف جنگ کا ایک سنہرا باب بند ہونے کے قریب ہے۔

نیلسن منڈیلا، اولیور تامبو اور والٹر سسولو کے ہمراہ کتھراڈا ایک ایسے گروہ کا حصہ تھے جس نے ملک کے لیے اخلاقی سمت نما کا کام سرانجام دیا۔

ان کی نسل نے اپنی تمام جوانی سیاہ فام اکثریت کو سفید فام اقلیتی حکومت کے تعصب کے چنگل سے نکالنے میں گزار دی۔

'انکل کیتھی' آخر دم تک پسے ہوئے طبقوں کی جدوجہد کا حصہ رہے۔ وہ حالیہ حکومت پر بھی تنقید کرتے رہتے تھے، اور انھوں نے ایک عدالتی فیصلے کے بعد صدر زوما سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ مستعفی ہو جائیں۔

ان کا ایک کارنامہ یہ بھی ہے کہ انھوں نے نسلی تعصب کے خلاف جنگ کو نسل پرستی سے الگ کر دیا۔ انھوں نے ثابت کیا کہ یہ جدوجہد صرف سیاہ فام افریقیوں ہی کی نہیں ہے بلکہ اس میں دوسری اقوام اور نسلیں بھی حصہ لے سکتی ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption احمد کتھراڈا سابق امریکی صدر اوباما کے ہمراہ

جوانی پسِ زنداں

کتھراڈا نے 26 برس سے زیادہ کا عرصہ جیل میں گزارا، جن میں سے 18 برس بدنامِ زمانہ روبن جزیرے کے زندان میں گزرے، جہاں ان کے ہمراہ منڈیلا بھی پابندِ سلاسل تھے۔

انھیں 1963 میں جوہانسبرگ کے قریب سے ان کے ساتھیوں سمیت گرفتار کیا گیا تھا۔ اس سے اگلے برس ان پر تشدد پر اکسانے کے الزامات ثابت ہو گئے۔

ان سب کو عمر قید کی سزا سنائی گئی۔

نسلی تعصب کے تحت قیدیوں کے ساتھ بھی مختلف سلوک روا رکھا جاتا تھا۔ سفید فام قیدیوں کو مراعات سے نوازا جاتا تھا، اس کے بعد سہولیات کے لحاظ سے ہندوستانی نژاد قیدیوں کا نمبر آتا تھا جب کہ سیاہ فام افریقیوں کے ساتھ سب سے خراب سلوک ہوتا تھا۔

کتھراڈا کا تعلق ہندوستان سے تھا لیکن انھوں نے جیل میں اس وقت تک کسی بھی قسم کی مراعات لینے سے انکار کر دیا جب تک ان کے ہمراہ قید سیاہ فام افریقی قیدیوں کو بھی وہی سہولیات و مراعات نہ دی جائیں۔

1982 میں انھیں پولزمور جیل منتقل کر دیا گیا، اور 1989 میں رہا کر دیا گیا۔

1994 میں جنوبی افریقہ کے پہلے جمہوری انتخابات کے بعد صدر منڈیلا نے کتھراڈا کو اپنا سیاسی مشیر تعینات کر دیا۔ انھوں نے 1999 میں یہ عہدہ چھوڑ دیا، تاہم وہ سیاست میں فعال رہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA

جدوجہد کی طویل داستان

کتھراڈا شمال مغربی صوبے میں پیدا ہوئے تھے۔ انھوں نے صرف 12 برس کی عمر ہی سے ینگ کمیونسٹ تنظیم میں شمولیت اختیار کر لی تھی۔

ان کے ایک دوست ڈینس گولڈ برگ نے ان کی وفات پر کہا: 'وہ دوست سے بڑھ کر تھے، وہ میرے کامریڈ تھے۔ ہم نے مل کر پھانسی کے خطرے کا مقابلہ کیا۔'

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں