بدنام ’انقلابی‘ کو تیسری بار عمر قید

کارلوس دا جیکال تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption کارلوس دا جیکال 1970، 2001 اور 2013 میں

وینزویلا کے بدنامِ زمانہ جنگجو کارلوس دا جیکال کو ایک فرانسیسی عدالت نے عمر قید کی سزا دی ہے۔ وہ پہلے ہی عمر قید کی دو سزائیں کاٹ رہے ہیں۔

خودساختہ انقلابی کارلوس کا اصل نام الیچ رامیریز سانچیز ہے اور ان کی عمر 67 برس ہے۔ انھیں 1974 میں پیرس کی ایک دکان پر دستی بم کے حملے کا مجرم قرار دیا گیا ہے۔

٭ کارلوس دا جیکال پر فرانس میں ایک اور مقدمہ

کارلوس نے دکان کے اندر دستی بم پھینک کر ایک شخص کو ہلاک اور 32 کو زخمی کر دیا تھا۔

انھوں نے الزامات سے انکار کرتے ہوئے 43 برس بعد چلائے جانے والے مقدمے کو 'مضحکہ خیز' قرار دیا ہے۔

کارلوس وینزویلا کے ایک مالدار گھرانے میں پیدا ہوئے تھے۔ انھوں نے ماسکو سے تعلیم حاصل کی جس کے بعد وہ وطن واپس آ کر پاپولر فرنٹ فار دا لبریشن آف فلسطین میں شامل ہو گئے۔

انھوں نے 1975 میں اسلام قبول کر لیا تھا۔

جب اس برس مارچ میں ان پر مقدمہ شروع ہوا تو انھوں نے کہا کہ انھوں نے جو بھی قتل کیے وہ 'انقلاب' کے نام پر تھے۔ انھوں نے وکیلوں اور 'صیہونی مفادات' کی مذمت کی۔

انھوں نے کہا: 'فلسطینی مزاحمت کے دوران کسی اور نے اتنے قتل نہیں کیے جتنے میں نے۔ میں واحد بچ جانے والا شخص ہوں۔ اس تمام جنگ میں کچھ لوگ نادانستگی میں مارے گئے جو قابلِ افسوس ہے۔'

وہ ایک زمانے میں دنیا کے سب سے مطلوب افراد میں شامل رہے ہیں۔ انھیں فرانس کی ایلیٹ پولیس نے سوڈان کے شہر خرطوم سے 1994 میں گرفتار کیا تھا۔

گرفتاری کے وقت انھوں نے مارکسی جنگجو کی حیثیت سے شہرت حاصل کر لی تھی اور وہ بم حملوں، سیاسی قتل اور یرغمال بنانے کے واقعات میں ملوث رہے۔

ان کا نام جیکال اس وقت پڑا جب ان کے سامان میں سے فریڈرک فورستھ کا مشہور ناول 'دا ڈے آف دا جیکال' برآمد ہوا۔

اس ناول کا مرکزی کردار فرانس کے سابق صدر چارلز ڈیگال کو قتل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔

اسی بارے میں