روس سے تعلقات پر ٹرمپ کے داماد سے پوچھ گچھ

کشنر تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption مسٹر کشنر کو وائٹ ہاؤس کی ایک ٹیم کا سربراہ منتخب کیا گیا ہے جو سرکاری دفترشاہی کو اوورہال کرنے کے لیے بنائی گئی ہے

صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ٹیم کے روس کے ساتھ مبینہ روابط کے بارے میں تفتیش کرنے والی کمیٹی امریکی صدر ٹرمپ کے داماد اور مشیر جیرڈ کشنر سے پوچھ گچھ کرے گی۔

وائٹ ہاؤس نے کہا ہے کہ مسٹر کشنر نے رضاکارانہ طور پر سینیٹ کی انٹیلیجنس کمیٹی کے ساتھ بات چیت کرنے کی پیشکش کی ہے۔

یہ کمیٹی گذشتہ سال ہونے والے صدارتی انتخابات میں مبینہ روسی مداخلت کی جانچ کر رہی ہے۔

٭ ڈیموکریٹس کو ٹرمپ کے داماد کے سیاسی منصب پر اعتراض

٭ ڈونلڈ ٹرمپ دوبارہ امریکی انٹیلی جنس پر برس پڑے

امریکہ کی انٹیلجنس برادری کا خیال ہے کہ صدراتی انتخابات کے دوران روس کی جانب سے ہونے والی مبینہ ہیکنگ مسٹر ٹرمپ کو ہلیری کے مقابلے میں کامیاب بنانے کے لیے کی گئی تھی۔

روس ان الزامات کی تردید کرتا رہا ہے جبکہ مسٹر ٹرمپ نے اسے 'غلط خبر' کہتے ہوئے مسترد کر دیا ہے۔

اس معاملے میں کانگریس کی سطح کے دو جبکہ امریکی تفتیشی ادارے ایف بی آئي کی جانب سے ایک بار جانچ ہو چکی ہے۔

دریں اثنا ڈیموکریٹک ایوان نمائندہ گان نے رپبلکن رہنما اور انٹیلجنس کمیٹی کے صدر ڈیون نیونس سے کہا ہے کہ وہ اس جانچ سے خود کو علیحدہ کرلیں۔

ایوان میں ڈیموکریٹ کے رہنما نینسی پیلوسی نے کہا ہے کہ انھوں نے وائٹ ہاؤس جاکر چپکے سے دستاویزات دیکھ کر اپنا اعتماد کھو دیا ہے۔

مسٹر نیونس کے ترجمان نے کہا ہے کہ انھوں نے وائٹ ہاؤس کا دورہ اس لیے کیا تاکہ وہ 'محفوظ لائن پر معلومات کو دیکھ سکیں۔'

بہر حال ڈیموکریٹ کے رہنما اور انٹیلجنس کمیٹی کے رکن ایڈم سکف نے کہا ہے 'مسٹر نیونس کا وائٹ ہاؤس جانا اور اس بات کو کمیٹی کے دوسرے ارکان سے پوشیدہ رکھنا یہ ظاہر کرتا ہے کہ وہ انتظامیہ سے بہت قریب ہیں اور کوئی شخص جو اتنا قریب ہو وہ کس طرح اس قسم کے قابل اعتماد جانچ کی سربراہی کر سکتا ہے۔'

حکام نے اخبار نیویارک ٹائمز کو بتایا کہ سینیٹ کی کمیٹی مسٹر کشنر سے روسی حکام کے ساتھ ان دو ملاقاتوں کے بارے میں پوچھنا چاہتی ہے جس کا انتظام مبینہ طور پر انھوں نے عبوری دور میں مسٹر ٹرمپ کے سینیئر مشیر کے طور پر کیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption مسٹر کشنر کی شادی مسٹر ٹرمپ کی بیٹی ایوانکا سے ہوئی ہے

پہلی ملاقات روسی سفیر سرگے کسلیک سے نیوریارک میں ٹرمپ ٹاور میں ہوئی تھی جبکہ دوسری روس کے سرکاری ڈیولپمنٹ بینک کے سربراہ سے کرائي گئی تھی۔

وائٹ ہاؤس کے ترجمان شان سپائسر نے کہا ہے کہ ایگزیکٹو استثنی کا استعمال نہ کرتے ہوئے تفیتیش کے سلسلے میں شہادت دے رہے ہیں کیونکہ وہ انتخابی مہم کے دوران رہنماؤں کے درمیان رابطہ کار کے طور پر کام کر رہے تھے۔

مسٹر سپائسر نے پیر کو بتایا کہ 'یہ ان کا کردار تھا اور وہ یہ بتانا چاہتے ہیں کہ وہ اپنے کردار کے بارے واضح تھے کہ انھوں نے کس سے بات کی۔'

وائٹ ہاؤس کے سٹاف نے نیویارک ٹائمز کو بتایا کہ ان ملاقاتوں میں کوئی خاص بات نہیں ہوئي اور نو منتخب صدر کی ٹیم روسی اور دیگر غیر ملکی مندوبین سے معمول کی ملاقاتیں کرتے رہے تھے۔

دریں اثنا مسٹر کشنر کو وائٹ ہاؤس کی ایک ٹیم کا سربراہ منتخب کیا گیا ہے جو سرکاری دفترشاہی کو اوورہال کرنے کے لیے بنائی گئی ہے۔

اس ٹیم کے پاس ضابطوں کی اصلاحات کے لیے وسیع اختیارات ہوں گے جس میں ٹیکنالوجی اور ڈیٹا اہم میدان ہوں گے اور اس سلسلے میں ایپل کے سی ای او ٹم کک اور مائیکروسافٹ کے بانی بل گیٹس مبینہ طور پر امداد کرنے والوں کی فہرست میں شامل ہیں۔

36 سالہ مسٹر کشنر نے اخبار کو بتایا ہے کہ حکومت کو ایک بڑی امریکی کمپنی کے طور پر چلایا جانا چاہیے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں