بہادر بچی بیل کے سامنے کھڑی رہے گی

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption لڑکی کا مجسمہ یوم خواتین کے موقعے پر نصب کیا گیا تھا

وال سٹریٹ پر اس عالمی شہرت یافتہ بیل کے مجسمے کے سامنے کھڑی اس چھوٹی سی لڑکی کے مجسمے کو وہاں اگلے سال مارچ تک رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

نیو یارک کے میئر بل ڈی بلازیو کا کہنا تھا کہ متعلقہ بلدیاتی اداروں نے اس فیصلے کی حمایت کی ہے۔

’دا فیئر لیس گرل‘ یعنی 'بے خوف لڑکی' نامی کانسی کے اس مجسمے کو آٹھ مارچ کو خواتین کے عالمی دن کے موقعے پر صنفی عدم مساوات اور کارپوریٹ کی دنیا میں خواتین اور مردوں کے درمیان تنخواہ کی خلیج کی جانب توجہ مبذول کرانے کے لیے رکھا گیا تھا۔

اس مجسمے کو جو فوراً سیاحوں کی توجہ کا مرکز بن گیا تھا اتوار کو وہاں سے ہٹایا جانا تھا لیکن اب اسے اگلے سال مارچ تک اسی جگہ رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

پیر کو مینہیٹن میں اس چار فٹ بلند مجسمے کے ساتھ کھڑے ہو کر میئر ڈی بلازیو نے کہا کہ یہ 'نیویارک کے لوگوں کے لیے بہت اہمیت کا حامل ہے۔

'یہ مجسمہ خوف اور اقتدار کے خلاف کھڑے ہونے اور خود میں جو صحیح ہے وہ کرنے کی طاقت تلاش کرنے کی علامت ہے'۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption مسٹر ڈی بلازیو نے کہا کہ 'نیویارک کے لوگوں کے لیے یہ بہت اہمیت کا حامل ہے۔'

انھوں نے کہا کہ 'یہ ایسے وقت میں سب کو متاثر کر رہی ہے جب ہمیں متحرک ہونے کی ضرورت ہے۔'

اس مجسمے کو کمپنی سٹیٹ سٹریٹ گلوبل ایڈوائزر کے کہنے پر آرٹسٹ کرسٹین وزبل نے تیار کیا ہے۔

کمپنی نے بتایا کہ یہ لڑکی مستقبل کی نمائندگی کرتی ہے۔

کمپنی کا کہنا تھا کہ امریکہ کی تین ہزار بڑی کمپنیوں میں ہر چار میں سے ایک کمپنی ایسی ہے جس کے بورڈ آف ڈائریکٹرز میں ایک بھی خاتون نہیں ہے۔

وال سٹریٹ پر اس لڑکی کے سامنے کھڑے 'چارجِنگ بل' نامی بیل کے مجسمے کو سنہ 1989 میں وہاں لگایا گیا تھا۔

اس مجسمے کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ امریکی عوام کی ’طاقت اور قوت‘ کی علامت ہے اور اسے اطالوی نژاد آرٹسٹ آرٹورو دی مونیکا نے بنایا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption یہ مجسمہ سیاحوں اور نیویارک کے باشندوں میں بہت مقبول ہوا ہے

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں